بھارت کی سپریم کورٹ نے کسی جواز کے بغیر شہریوں کے مکانات گرانے کے عمل کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اِس کی روک تھام کا حکم دیا ہے۔
جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے وی وشواناتھن پر مشتمل بھارتی سپریم کورٹ کے بینچ نے ایک پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کے خلاف شکایات درج کرائے جانے قانونی کارروائی مکمل کرنا لازم ہے۔ عدالتی کارروائی کے بعد فیصلے کی صورت میں کسی پراپرٹی کو منہدم کیا جاسکتا ہے اور کسی بھی ایگزیکٹیو کو یہ حق حاصل نہیں کہ جج کا کردار ادا کرتے ہوئے کسی بھی پراپرٹی کو گرانے کا حکم دے یا گرائے۔
سپریم کورٹ نے اس بات پر شدید ناراضی کا اظہار کیا کہ بہت سے مقامات پر قانونی کارروائی کے بغیر ہی مکانات اور دیگر ڈھانچے بلڈوزرز کے ذریعے گرادیے گئے ہیں۔ ایسا عمل اُسی وقت کیا جاسکتا ہے جب عدالت نے اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد باضابطہ حکم جاری کیا ہو۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا بھی ہے تو سزا صرف اُسے ملنی چاہیے، اُس کے اہلِ خانہ یا متعلقین کو نہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کسی کے جرم کی پاداش میں پورے گھرانے ہی کو فٹ پاتھ پر پھینک دیا جائے؟
واضح رہے کہ بھارت کے بہت سے شہروں میں چند ماہ کے دوران غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کسی قانونی عمل کے بغیر کی گئی ہے۔ بہت سی دکانوں اور مکانات کے علاوہ مساجد کو بھی شہید کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے بہت سے مکانات کو قانونی کارروائی کے بغیر بلڈوز کردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بلڈوزرز کا استعمال انتہائی ہول ناک ہے اور مکانات کے انہدام کا منظر معاشرے میں انتہائی نوعیت کا انتشار پیدا کرتا ہے۔ یہ سب کچھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے اور کوئی بھی قانون کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے استعمال نہ کرے۔

