پشاور:بانی تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے ویڈیو آڈیو لیک ہونے کے خدشے کے باعث اجلاس میں موبائل فون کی اجازت نہیں دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بشری بی بی نے کہاکہ 24 نومبر کو احتجاج میں حصہ نہ لینے والے رکن اسمبلی یا عہدیدار کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ( کے پی کے ) علی امین گنڈا پور کام کریں ورنہ وزارت چھوڑ دیں۔
بشری بی بی نے علی امین کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات کریں، مجھے گزشتہ احتجاج اور قافلوں کی تفصیلات سن کر افسوس ہوا، کئی عہدیدار اور ممبران صرف حاضری کیلیے احتجاج میں شریک ہوئے تھے جبکہ کئی عہدیدار کارکنوں سمیت آدھے راستے سے ہی واپس ہوگئے تھے۔
انہوں نے پارٹی عہدیداروں کو احکامات دیتےہوئے کہاکہ ہر صورت اسلام آباد پہنچنا ہے، ہدایات پر عمل نہ کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی،کپتان سے وفاداری کے لیے 24 نومبر کو ہر رکن اسمبلی اپنے ساتھ ایک قافلہ لے کر نکلے گا۔
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان نے شورمچایا ہوا ہےکہ وزیر اعلیٰ کے پی کے چندگاڑیاں لے کر کہاں گھومتے رہتےہیں؟ کسی کو نہیں پتہ، پروگرام کے آخر میں پہنچ کر کہتے ہیں کہ راستے سارے بند تھے۔
واضح رہےکہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے گزشتہ اجلاسوں میں بھی ممبران اور عہدیداروں سے موبائل لیے گئے تھے، جس پر کئی اراکین نے اعتراض کیا تھا، جس بشری بی بی نے کہا تھا کہ مجبور یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے ورنہ ہمارے سارے پروگرام برباد ہوجائیں گے۔

