ویب ڈیسک —
ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا تقریباً چار سو فٹ اونچااسٹار شپ راکٹ اپنے خلائی جہاز سمیت ریاست ٹیکساس سے لانچ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف سٹار شپ خلائی جہاز کو لانچ کرنے کے بعد واپس زمین پر لانا ہے بلکہ اس کے بوسٹر راکٹ کو بھی سلامتی کے ساتھ واپس پلیٹ فارم پر اتارنا ہے۔
اس موقع پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی سائنس کی دنیا کے اس شاندار مظاہرے کے مشاہدہ کے لیے موجود ہیں۔
لانچنگ کے آنکھوں دیکھے حال کے لیے لنک پر کلک کریں۔
اسٹار شپ کا بوسٹر جب تیز رفتاری سے لانچ ٹاور کے قریب پہنچے گا تو راکٹ کے انجن اس کی رفتار انتہائی کم کر دیں گے جس کے بعد وہاں نصب فولادی بازو اسے اپنے شکنجے میں لے کر ساکت کر دیں گے۔
اس سے قبل بیرونی خلا سے واپس آنے والے راکٹوں کے کیپسول سمندر میں اتارے جاتے تھے اور ان میں سے خلابازوں کو نکال کر زمین پر واپس پہنچا دیا جاتا تھا۔
منگل کی اس متوقع فلائٹ سے تقریباً ایک ماہ قبل اسٹار شپ کو لانچ اسٹیشن پر اتارنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا، جس نے اسپیس ایکس کو خلائی راکٹوں کی صنعت میں ایک عالمی رہنما کے مقام پر فائز کر دیا۔
اسپیس ایکس کے ایک بھاری بھرکم راکٹ کو لانچ پیڈ پر اتارنے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر دنیا بھر میں دکھائی گئی تھی۔ اس تاریخی کامیابی کا ذکر نو منتخب صدر ٹرمپ نے صدراتی الیکشن جیتنے کے بعد اپنی فتح کی تقریر میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ دیکھنا ایک خوبصورت چیز تھی‘۔

اسپیس ایکس کی جانب سے لانچنگ اسٹیشن پر راکٹ کو اتارنے کا تجربہ دہرانے کا مقصد شاید یہ ثابت کرنا ہے کہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ کوئی اتفاقیہ عمل نہیں تھا۔
منگل کو کیا جانے والا یہ تجربہ، دنیا کے سب سے طاقت ور راکٹ کی آزمائشی پروازوں کے درمیان ایک تیز ترین تبدیلی کی نوید دے گا۔
اس تجربے میں استعمال کیا جانے و الا سٹین لیس اسٹیل کا چمکتا ہوا راکٹ، ایلون مسک کے ان خوابوں کا محور و مرکز ہے جو وہ مریخ پر انسانی کالونی قائم کرنے اور انسان کو ایک کثیر الجہتی مخلوق کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا بھی اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت اس عشرے کے آخر تک اسٹارشپ راکٹ کے ذریعے اپنے خلاباز دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اگر یہ مشق طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق انجام پاتی ہے تو زمین کے مدار سے سپر سانک رفتار سے واپس آنے والے بوسٹر راکٹ کی رفتار لانچ ٹاور کے قریب پہنچ کر انتہائی سست پڑ جائے گی۔ اس موقع پر دو روبوٹک آہنی ہاتھ اسے اپنی گرفت میں لے لیں گے اور بوسٹر راکٹ ساکت ہو جائے گا۔ اس عمل میں تقریباً آٹھ سے دس منٹ لگیں گے۔
جب کہ اسٹارشپ راکٹ کا اوپر کا حصہ زمین کے مدار میں داخل ہونے کے لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد بحر ہند میں اتر جائے گا۔ لیکن اس بار یہ عمل دن کی روشنی میں ہو گا جس سے تجزے کے لیے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
(اس رپورٹ کے لیے معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)
