English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کی اپنے خلائی جہاز سمیت ریاست ٹیکسس سے روانگی، ٹرمپ مشاہدے کیلئے موجود

ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا تقریباً چار سو فٹ اونچااسٹار شپ راکٹ اپنے خلائی جہاز سمیت ریاست ٹیکساس سے لانچ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف سٹار شپ خلائی جہاز کو لانچ کرنے کے بعد واپس زمین پر لانا ہے بلکہ اس کے بوسٹر راکٹ کو بھی سلامتی کے ساتھ واپس پلیٹ فارم پر اتارنا ہے۔

اس موقع پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ خلائی سائنس کی دنیا کے اس شاندار مظاہرے کے مشاہدہ کے لیے موجود ہیں۔

لانچنگ کے آنکھوں دیکھے حال کے لیے لنک پر کلک کریں۔

اسٹار شپ کا بوسٹر جب تیز رفتاری سے لانچ ٹاور کے قریب پہنچے گا تو راکٹ کے انجن اس کی رفتار انتہائی کم کر دیں گے جس کے بعد وہاں نصب فولادی بازو اسے اپنے شکنجے میں لے کر ساکت کر دیں گے۔

اس سے قبل بیرونی خلا سے واپس آنے والے راکٹوں کے کیپسول سمندر میں اتارے جاتے تھے اور ان میں سے خلابازوں کو نکال کر زمین پر واپس پہنچا دیا جاتا تھا۔

منگل کی اس متوقع فلائٹ سے تقریباً ایک ماہ قبل اسٹار شپ کو لانچ اسٹیشن پر اتارنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا، جس نے اسپیس ایکس کو خلائی راکٹوں کی صنعت میں ایک عالمی رہنما کے مقام پر فائز کر دیا۔

اسپیس ایکس کے ایک بھاری بھرکم راکٹ کو لانچ پیڈ پر اتارنے کی ویڈیو انٹرنیٹ پر دنیا بھر میں دکھائی گئی تھی۔ اس تاریخی کامیابی کا ذکر نو منتخب صدر ٹرمپ نے صدراتی الیکشن جیتنے کے بعد اپنی فتح کی تقریر میں کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ دیکھنا ایک خوبصورت چیز تھی‘۔

ٹیکساس کے علاقے بوکا چینا میں اسپس ایکس کا لانچ اسٹیشن اب خلا سے واپس آنے والے راکٹ کو وصول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خصوصی ٹیکنالوجی کی ذریعے لانچ اسٹیشن کے قریب پہنچ کر راکٹ کی رفتار بہت کم ہو جاتی ہے اور لانچ پیڈ کے دو آہنی بازو اسے پکڑ کر ساکت کر دیتے ہیں۔

ٹیکساس کے علاقے بوکا چینا میں اسپس ایکس کا لانچ اسٹیشن اب خلا سے واپس آنے والے راکٹ کو وصول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خصوصی ٹیکنالوجی کی ذریعے لانچ اسٹیشن کے قریب پہنچ کر راکٹ کی رفتار بہت کم ہو جاتی ہے اور لانچ پیڈ کے دو آہنی بازو اسے پکڑ کر ساکت کر دیتے ہیں۔

اسپیس ایکس کی جانب سے لانچنگ اسٹیشن پر راکٹ کو اتارنے کا تجربہ دہرانے کا مقصد شاید یہ ثابت کرنا ہے کہ اس نوعیت کا پہلا تجربہ کوئی اتفاقیہ عمل نہیں تھا۔

منگل کو کیا جانے والا یہ تجربہ، دنیا کے سب سے طاقت ور راکٹ کی آزمائشی پروازوں کے درمیان ایک تیز ترین تبدیلی کی نوید دے گا۔

اس تجربے میں استعمال کیا جانے و الا سٹین لیس اسٹیل کا چمکتا ہوا راکٹ، ایلون مسک کے ان خوابوں کا محور و مرکز ہے جو وہ مریخ پر انسانی کالونی قائم کرنے اور انسان کو ایک کثیر الجہتی مخلوق کے طور پر پیش کرنے کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

اسپیس ایکس کے لانچ ٹاور میں نصب آہنی ہاتھوں نے اترنے والے بوسٹر راکٹ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور راکٹ کا انجن آہستہ آہستہ بند ہو رہا ہے۔ 13 اکتوبر 2024

اسپیس ایکس کے لانچ ٹاور میں نصب آہنی ہاتھوں نے اترنے والے بوسٹر راکٹ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور راکٹ کا انجن آہستہ آہستہ بند ہو رہا ہے۔ 13 اکتوبر 2024

امریکی خلائی ادارہ ناسا بھی اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت اس عشرے کے آخر تک اسٹارشپ راکٹ کے ذریعے اپنے خلاباز دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اگر یہ مشق طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق انجام پاتی ہے تو زمین کے مدار سے سپر سانک رفتار سے واپس آنے والے بوسٹر راکٹ کی رفتار لانچ ٹاور کے قریب پہنچ کر انتہائی سست پڑ جائے گی۔ اس موقع پر دو روبوٹک آہنی ہاتھ اسے اپنی گرفت میں لے لیں گے اور بوسٹر راکٹ ساکت ہو جائے گا۔ اس عمل میں تقریباً آٹھ سے دس منٹ لگیں گے۔

جب کہ اسٹارشپ راکٹ کا اوپر کا حصہ زمین کے مدار میں داخل ہونے کے لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد بحر ہند میں اتر جائے گا۔ لیکن اس بار یہ عمل دن کی روشنی میں ہو گا جس سے تجزے کے لیے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

(اس رپورٹ کے لیے معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے