English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یمن میں خانہ جنگی سے 24لاکھ بچے تعلیم سے محروم ، اقوام متحدہ

القمر

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ سے منسلک بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ یمن میں 10سال سے جاری تنازع کی وجہ سے 24 لاکھ بچے اسکول چھوڑ چکے ہیں۔عالمی یوم اطفال کے موقع پر رپورٹ میں کہا گیا کہ جنگ کہ آغاز سے لے کر اب تک 2ہزار سے زیادہ اسکولوں کو نقصان پہنچا یا دوبارہ تباہ کیا گیا ہے۔ اسکول جانے کی عمر کے 80 لاکھ بچوں کو تعلیم چھوڑنے کا خطرہ لاحق ہے، جن میں 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیا کہ عالمی ادارے نے مآرب میں 24 اسکولوں کے لیے 32 کلاس روم اور عارضی تعلیمی جگہوں کی بحالی اور تعمیر کی ہے، جس سے 28ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہوئے۔ اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے تصدیق کی ہے کہ یمن میں رواں سال کے دوران تقریباً ایک کروڑ بچے انسانی امداد اور تحفظ کی خدمات کے محتاج ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر اوچا کا کہنا ہییمن میں 98 لاکھ بچوں کو رواں سال کے دوران کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد اور فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔ یمنی بچے وہ طبقہ ہیں جو ملک میں 10 سال سے جاری تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انہیں بے گھر ہونے، تعلیم کی کمی، بیماریوں اور غذائی قلت جیسے بحرانوں کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا ہے کہ یمنی بچے صحت، تعلیم، خوراک، نقصان سے تحفظ، محفوظ، صاف ماحول کی فراہمی، جامع اور فوری دیکھ بھال کی سہولیات سے مستفید ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے