باجوڑ: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہو گئے ۔
باجوڑ کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) وقاص رفیق نے دونوں دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکے تحصیل ماموند میں ہوئے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ پہلا دھماکہ ایراپ کے علاقے میں ہوا جس کے نتیجے میں ایک شہری، ملک اصغر، جاں بحق ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ لوئی پولیس اسٹیشن کے حدود میں مینکڑ میں ہوا جس میں پولیس اہلکار احسان اللہ جان کی بازی ہار گیا۔
پولیس نے دھماکوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ دوہرے دھماکے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ایک اور کارروائی کے طور پر سامنے آئے ہیں، جہاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خاص طور پر سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سنٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی ایک رپورٹ کے مطابق، سال 2024 کی تیسری سہ ماہی میں دہشت گردی اور جوابی کارروائیوں سے جڑے ہلاکتوں میں 90 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 328 واقعات میں 722 افراد جاں بحق اور 615 زخمی ہوئے، جن میں سے 97 فیصد ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں۔
یہ واقعات پاکستان کے افغان سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو نمایاں کرتے ہیں۔ طالبان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کی یقین دہانی کے باوجود، شدت پسند گروہ اب بھی غیر محفوظ سرحد کا فائدہ اٹھا کر حملے کر رہے ہیں۔
دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے غیر قانونی عناصر کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔
آرمی چیف نے ملک اور اس کے سیکیورٹی اداروں کی اجتماعی عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان آرمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط اور مضبوط آپریشنز کے ذریعے امن کے دشمنوں کا خاتمہ کر کے دیرپا استحکام اور سلامتی کو یقینی بنائے گی۔

