ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت) سول اسپتال مکلی سے ادویات کی چوری کا اسکینڈل چھوٹے ملازمین زد میں آگئے بڑے مگرمچھ بچ گئے ۔ سول اسپتال ٹھٹھہ سمیت ضلع کے 8 صحت مراکز کا انتظام چلانے والی مرف این جی او کے بڑے ڈرگ گودام سے 2 کروڑ روپے کی ادویات مبینہ طور پر غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے مرف این جی او کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام نے معاملے کی تحقیقات کرنے کے بجائے 4 ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا سول اسپتال ٹھٹھہ اور تعلقہ اسپتال میرپور ساکرو سمیت 8 رورل ہیلتھ سینٹرز کو فراہم ہونے والی مہنگی اودیات، انجکشن رات کی بیت میں مرف این جی او کے مکلی کے گودام سے غائب، انتظامیہ نے ادویات چوری ہونے کی بھی تصدیق کر دی مرف این جی اوز اور محکمہ صحت کی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش۔ تاہم معاملہ لیک ہونے کے بعد گودام انچارج سینئر فارماسسٹ نورین عباسی، سپلائی چین انچارج نیاز بروہی، وئر ہاؤس ہیلپر شکیل ناریجو اور کامران بروہی کو برطرف کر دیا گیا۔معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرنے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے مرف این جی اوز حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں 4 ملازمین ملوث پائے گئے،تفتیش مکمل کرنے کے بعد انہیں نوکریوں سے برطرف کرکے فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی دوسری جانب سیاسی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مکلی میں قائم مرف این جی او کے بڑے میڈیسن گودام سے آدھی رات کو 2 کروڑ روپے کی ادویات غائب ہونے کا معاملہ صرف چھوٹے ملازمین تک محدود نہیں ہے معاملے میں مرف این جی اوز اور محکمہ صحت کے افسران بھی ملوث ہے انہیں بھی تحقیقات میں شامل کرکے غیر جانبدارانہ انکوائری ٹیم تشکیل دے کر حقائق سامنے لائے جائیں۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ادویات کی چوری میں بڑے بڑوں کا ہاتھ شامل ہے جس کی وجہ سے چار ملازمین نکال دیے گئے جبکہ بڑے مگر مچھوں نے گہرے پانی میں چھپ کر جان بچالی۔
