سری نگر (اے پی پی) بھارت کے غیرقانونی طورپر زیرتسلط جموں وکشمیرمیں موسم سرما شروع ہوتے ہی بھارتی فوج نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں میں تیزی محض حفاظتی اقدام نہیں بلکہ مقبوضہ علاقے میں مودی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کا حصہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے بہانے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔ادھر پونچھ اور راجوری میں فوجی کارروائیوں کے ساتھ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے، اس طرح کی فوجی کارروائیاں مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کررہی ہیں، جہاں لوگوں کو بلا جواز چھاپوں، ہراسانی اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان اقدامات کی مذمت کی ہے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم کرنے کی بھارتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔یہ کارروائیاں تنازع کشمیر کے حل کے لیے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی مطالبات کے دوران ہو رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی فوجی کارروائیوں اور ظالمانہ ہتھکنڈوں کا مقصد اختلاف رائے کو دبانا ہے۔
