نوابشاہ( نمائندہ جسارت)نوابشاہ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اقربا پروری داخلہ ماہوار فیس شمشاہی امتحانات کی فیس لیکر سندھ حکومت کے احکامات کی دھجیاں بکھیر دی گئی ڈپٹی کمشنر شہید بے نظیر ایک ڈی اوز دی او اور ڈائریکٹر محکمہ ایجوکیشن نے آنکھیں موند لیں جبکہ غریب والدین کی شکایت کی داد رسی نہ ہو سکی وزیراعلیٰ سندھ سختی سے سختی کے ساتھ نوٹس لینے کی اپیل ۔تفصیلات کے مطابق نوابشاہ شہر کے سرکاری اسکولوں جن میں گورنمنٹ گرلز اسکول ڈی سی ہائی اسکول فاطمی جناح مریم روڈ اسکول نیا مدرسہ اسکول کے طلبا سے داخلہ فیس ماہوار ٹیسٹ شمشاہی امتحانی فیس وصول کرنے پر شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے مفت تعلیم اور بچوں کو سرکاری اسکولوں میں ذیادہ سے زیادہ داخلے کے احکامات دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں جبکہ سرکاری اسکولوں میں بڑھتے ہوئے نقل کا رحجان بااثر افراد کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے ہے اساتذہ کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایت میں اضافہ ہوا ہے مسلسل احتجاج کے باوجود ایک ڈی اوز دی اوز اور ڈائریکٹر ایجوکیشن کی طرف سے نوٹس نہ لینے پر شہری شدید دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اساتذہ تنظیموں نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں جبکہ وہ اس گھنائونے عمل میں شریک نظر آتی ہیں۔
