لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے نہم و دہم کی داخلہ فیسوں میں 50 فیصد تک اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ہزاروں غریب اور مستحق طلبہ و طالبات متاثر ہوں گے اور وہ داخلے نہ بھجوانے کی وجہ سے تعلیم سے دور ہو جائیں گے، ریاست کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ تعلیم اور صحت جیسی ضروریات ہر پاکستانی کی دسترس میں لائے اور ان کا حصول آسان بنائے، لیکن بد قسمتی سے نا اہل حکمرانوں نے ہر شعبہ تباہ کرکے رکھ دیا، پہلے ہی ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف بھاری فیسوں والے پرائیویٹ ادارے لاکھوں روپے فیسیں وصول کر رہے ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے لیے علم کا حصول مشکل ترین مرحلہ بن چکا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت بھی ایسے اقدام کر رہی ہے جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے، تعلیم، صحت سمیت کوئی شعبہ بھی ایسا نظر نہیں آتا جہاں کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جا سکے، عوام کا ان ظالموں پر سے اعتماد اُٹھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’تعلیم براے فروخت‘‘ جیسی سرمایہ دارانہ پالیسی اختیار کرنے سے طالب علموں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، سرکاری یونیورسٹیز بھی ہر سال فیسوں میں اضافہ کیے جا رہی ہیں لیکن حکومت خاموش ہے، تعلیمی اداروں میں سہولیات ہیں، نہ وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے، سرکاری جامعات تحقیق کے میدان میں دن بدن تنزلی کی جانب جا رہی ہیں، عام طالب علم سرکاری یونیورسٹی کی فیس بھی دینے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو فیسوں میں اضافے کے لیے کھلی چھوٹ دی گئی، اسکول مالکان نے من مانے اضافے کر کے والدین کی مشکلات میں اضافہ کیا، نجی تعلیمی اداروں کو ہر جگہ ڈگریوں کی دکانیں لگانے کی اجازت نے والدین کو دیوالیہ بنا دیا، ایک نظام، ایک نصاب اور ایک زبان کے نفاذ کے بنا تعلیمی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، نجی تعلیمی ادارے مافیا کی حیثیت ا ختیار کر چکے ہیں جنہیں قابو میں رکھنا حکومت کا فرض ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے کہا کہ وزیر اعلیٰ فیسوں میں اضافے کا نوٹس لیں جبکہ لاہور بورڈ فوری داخلہ جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کرے، کیونکہ مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
