
مشق/ماسکو/واشنگٹن/دوحا/اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک+خبرایجنسیاں+نمائندہ جسارت) شام میں اسدخاندان کی 50 سالہ آمریت کا حیران کن طور پر صرف ایک ہفتے میں خاتمہ ہوگیا۔شامی صدر بشارالاسد ملک چھوڑ کر روس فرارہوگئے ۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روس نے سابق شامی صدر بشار الاسد اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دے
دی ہے۔روسی چینل ون نے بھی کریملن ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بشار الاسد اور ان کا خاندان روس میں ہے۔اس سے قبل بشار الاسد کی طیارہ حادثے میں ہلاکت کی متضاد خبریں سامنے آرہی تھی۔شامی مزاحمت کاروں نے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کے بعد سرکاری ٹی وی پر اپنی فتح اعلان کیا۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور جابربشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن منایا۔ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق کے نواح میں فوجی جیل سے ہزاروں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی وڈیو منظر عام پر آگئی۔جیل سے رہائی پانے والوں میں سیکڑوں شامی خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔ان کی تعداد 3500 بتائی جارہی ہے۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ وڈیو میں اپوزیشن فورسز کو شام کی بدنام زمانہ صیدنایا جیل کے مرکزی کنڑول روم میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک اور وڈیو میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے جیل کے تالے توڑ کر خواتین قیدیوں کو رہا کرواتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، وڈیو میں خواتین قیدیوں کے ساتھ چھوٹے بچے بھی نظر آرہے ہیں۔شام کے دارالحکومت میں باغیوں کے داخل ہونے پر 2 ہزار سے زائد شامی فوجی محاذِ جنگ چھوڑ کر پروسی ملک عراق کی سرحد عبور کرکے فرار ہوگئے۔شام میں سرحدی چوکیاں خالی کردی گئی ہیں۔عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی فوج کے افسران اور اہلکاروں کو عراقی حکومت نے القائم بارڈر کراسنگ کے ذریعے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ شامی فوجیوں کا عراق میں داخلہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ معاہدے اور عراقی وزیر اعظم شیاع سوڈانی اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی حکومت کی منظوری سے ہوا۔عراق پہنچنے والے شامی فوجیوں میں اکثر زخمی ہیں جنہیں علاج کے لیے القائم اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔العربیہ نیوز کے مطابق شام سے ایران نواز ملیشیا کے جنگجوؤں سمیت دیگر ممالک کے جنگجو بھی ملک چھوڑ کر اپنے اپنے ملک روانہ ہوگئے۔شام کے دارالحکومت میں سڑکوں پر حیات التحریر الشام کے مزاحمت کاروں نے نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو بھی ان کے قبضے میں ہیں۔دارالحکومت دمشق میں باغیوں کے داخل ہونے کے بعد لاکھوں افراد نے مرکزی چوک میں جشن مناتے ہوئے آزادی کے نعرے لگائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق شامی فوج کی کمان نے افسران کو مطلع کیا ہے کہ باغیوں کے حملے کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ شامی مزاحمت کا کہنا ہے کہ دمشق اب اسد سے آزاد ہے، فوج کے 2سینئر افسران نے بتایا کہ اس سے قبل بشار الاسد اتوار کو دمشق سے کسی نامعلوم مقام کے لیے روانہ ہوگئے تھے کیونکہ باغیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دارالحکومت میں داخل ہوگئے ہیں اور فوج کی تعیناتی کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔عینی شاہدین کا کہنا تھاکہ لاکھوں افراد گاڑیوں اور پیدل دمشق کے ایک مرکزی چوک پر جمع ہوئے اور ہاتھ ہلا کر آزادی کے نعرے لگائے۔شام میں اپوزیشن فورسز کی جانب سے دارالحکومت دمشق پر کنٹرول اور شامی صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد ترکیہ میں شامی قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا گیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی جانب سے فراہم کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قونصل خانے کی بالکونی میں نصب شامی جھنڈا اتارا جارہا ہے اور بالکونی میں موجود افراد شامی اپوزیشن کی جانب سے استعمال کیے جانے والا شام کا پرانا جھنڈا لہرارہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت نے شام میں بشار الاسد کے اقتدار سے خاتمے پر شامی عوام کو مبارکباد دی ہے۔اپوزیشن فورسز کے شام پر کنٹرول کے بعد افغانستان حکومت نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی وزارت خارجہ نے ایک اعلامیے میں شام کی موجودہ صورتحال پر تحریرالشام اور شام کی عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔ اعلامیے میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ شام میں آزاد اور اسلامی نظام کی بنیاد رکھی جائے گی۔ افغان حکومت نے تمام بیرونی طاقتوں کی اہل شام کے ساتھ مثبت تعلقات رکھنے کی امید کا اظہار کیا۔ادھر نومنتخب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی موجودہ صورتحال پر کہا کہ ہمارا شام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔انہوںسنے موجودہ صدر جوبائیڈن کو مشورہ دیا کہ امریکا کو شام کے معاملے پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے،کسی اور کی جنگ میں شامل ہونے کا خمیازہ امریکیوں سے نفرت، قاتلانہ حملوں اور معیشت پر بھاری بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔اسرائیل نے بھی شام کی صورتحال میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔قطر کے دارالحکومت دوحا میںترکیہ، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی جس دوران شام میں باغیوں کی پیش قدمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قطر میں ہونے والے دوحہ فورم کے مشترکہ اعلامیہ میں کہنا تھا کہ شام کی موجودہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں شام میں فوجی آپریشنز روکنے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ادھراسلام آباد میں وزارت خارجہ نے شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے کرائسز مینجمنٹ یونٹ فعال کر دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شام میں موجود پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، اہلخانہ فون نمبر یا ای میل کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق شام میں 1200 پاکستانی ہیں، تمام پاکستانی محفوظ ہیں اور دمشق سفارتخانہ سے رابطے میں ہیں۔پاکستان میں رابطے کے لیے درج ذیل فون نمبر: 051-9207887 اور ای میل cmu1@mofa.gov.pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ دمشق میں پاکستانی سفارتخانہ شام میں موجود پاکستانی شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے متحرک ہے۔ شام میں رابطے کے لیے درج ذیل فون نمبر/واٹس ایپ +963987127822، +963990138972 اور ای میل parepdamascus@mofa.gov.pk پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستانی شہری پھنس گئے ہیں۔یاد رہے کہ شام میں الاسد خاندان 50 سال سے زائد عرصے تک برسراقتدار رہا، بشار الاسد کو اقتدار اپنے طاقتور فوجی والد سے وراثت میں ملا جو 1971 ء سے لے کر جون 2000 ء میں اپنی موت تک برسر اقتدار رہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2000ء ، طب کے سابق طالبعلم بشار الاسد شام کے صدر، بعث پارٹی کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر اِن چیف بن گئے۔11 سال بعد عرب بہار کے نتیجے میں شامی عوام جمہوریت کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے تو بشار الاسد نے سخت کریک ڈاون کیا۔جیسے جیسے مزید شامی مظاہروں میں شامل ہوتے گئے، ویسے ویسے مخالفین کی اکثریت کو دہشت گرد قرار دینے والے صدر بشار الاسد طاقت کا استعمال بڑھاتے گئے جس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔اس کے بعد کے برسوں میں لاکھوں شامی جاں بحق ہوئے اور بشار الاسد پر شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔جنگ کے سائے میں انہوں نے حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں انتخابات کرائے جنہیں بہت سے لوگوں نے غیر جمہوری قرار دے کر مسترد کر دیا۔جنگ کبھی نہ جیتنے کے باوجود بشار الاسد اپنے پیروکاروں بشمول اقلیتی علوی سیاسی جماعت کی حمایت سے اقتدار پر محدود طور پر قائم رہے۔
