جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں “ڈف تھیریا وائرس” انتہائی تیزی سے پھیلنے لگا ضلع کی اسپتالوں میں ویکسین نایاب ہو گئی ہے مجبور مریضوں نے سکھر اور کراچی کا رخ کرنے لگے ۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں “ڈف تھیریا وائرس” انتہائی تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ ضلع کی اسپتالوں میں ویکسین نایاب ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے مجبور مریضوں نے سکھر اور کراچی کا رخ کر لیا ہے۔واضح رہے کہ ڈف تھیریا ایک خطرناک بیماری ہے جو زیادہ تر معصوم بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس بچوں کے اندرونی گلے کو خراب کر دیتا ہے، جس کے باعث بچے کھانے پینے سے قاصر ہو جاتے ہیں اور سات دن کے اندر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیںویکسین کی عدم دستیابی اور مقامی محکمہ صحت کے افسران کی غفلت پر شہریوں میں سخت غصہ پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں انسان کی جان کی قیمت پرندوں سے بھی کم ہے۔ ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کی لاپروائی سمجھ سے باہر ہے۔ ڈف تھیریا کے متاثرہ بچوں کے والدین ویکسین کی کمی کے باعث شدید مالی مشکلات کے باوجود مجبوراً اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کراچی اور سکھر کے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔سماجی رہنما تاج ویلفیئر کے سربراہ احمد خان رند نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس مسئلے پر میری جمس کے ڈائریکٹر اور ڈی ایچ او سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جنہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد از جلد ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔احمد خان رند نے ڈف تھیریا کی علامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ڈف تھیریا ایک سنگین بیکٹیریل انفیکشن ہے، جو عام طور پر ناک اور گلے کی جھلیوں کو متاثر کرتی ہے۔ ڈف تھیریا امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں انتہائی نایاب ہے، کیونکہ اس بیماری کے خلاف ویکسین بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ لیکن ان ممالک میں، جہاں صحت کی سہولیات یا ویکسین کی دستیابی محدود ہے، ڈف تھیریا کی شرح بہت زیادہ ہے،ڈف تھیریا کا علاج دوائیوں سے ممکن ہے، لیکن بیماری کے بڑھ جانے کی صورت میں یہ دل، گردے اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ علاج کے باوجود یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں میں۔ ڈف تھیریا سے متاثرہ بچے کی ایک علامت گردن کے غدود (لیمف نوڈز) کا سوج جانا ہے۔دوسری جانب شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی چیف سیکرٹری، وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام سے معاملے کا سخت نوٹس لے کر معصوم بچوں کی زندگیاں بچانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
