پورٹ او پرنس (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی امریکی ملک ہیٹی میں گینگ کے سرغنہ نے جادو ٹونے کے اثرات سے بیٹے کی ہلاکت کے شبہے میں 110 معمر افراد کو قتل کروا دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نیشنل ہیومن رائٹس ڈیفنس نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ واقعہ ہیٹی کے شہر سیٹے سولے کے علاقے میں پیش آیا۔گینگ کے سرغنہ نے اپنے بچے کی بیماری اور 2 دن میں موت پر 110 معمر افراد کو جادو ٹونا کرانے کے الزام میں قتل کرایا۔ ان میں سے 60 افراد کو جمعہ کے روز اور 50 کو ہفتے کے روز قتل کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تمام افراد کو تیز دھار آلات کی مدد سے قتل کیا گیا۔ تمام مقتول افراد کی عمریں 60 برس سے زائد تھیں۔ سیٹے سولے کا شمار ہیٹی کے گنجان آباد علاقے میں ہوتا ہے اور اسے ہیٹی کے بہت زیادہ غربت والے علاقوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔گینگ کا سیٹے سولے پر اس قدر زیادہ کنٹرول ہے کہ وہاں موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی ہے جس کے باعث شہری معلومات کو دیگر علاقوں تک بھی نہیں پہنچا سکتے۔واضح رہے کہ وارف جیریمی گینگ کی سربراہی فیلکس نامی شخص کرتا ہے جس کے پڑوسی ملک ڈومینکن ری پلبک میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔
