English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلا دیش نے بھارت سے انٹرنیٹ معاہدہ منسوخ کردیا

القمر

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلا دیش کی انٹرنیٹ ریگولیٹر اتھارٹی نے اقتصادی فائدہ نہ ہونے پر بھارت کے ساتھ انٹرنیٹ بینڈوتھ ٹرانزٹ معاہدہ منسوخ کر دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بنگلا دیش کی انٹرنیٹ ریگولیٹر اتھارٹی نے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو بینڈوتھ کی فراہمی کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر کام کرنے کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے۔ بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے ایک رکن کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ انٹرنیٹ بینڈوتھ ٹرانزٹ معاہدہ سے کوئی خاص معاشی فائدہ نہیں ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اس معاہدے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ بھارت کے لیے اس کے شمال مشرقی خطے کے دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رابطے کو بڑھانے کے لیے اہم تھا۔ بنگلادیش کے اس اقدام سے بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔دوسری جانب بنگلا دیش اور بھارت کے درمیان سفارتی محاذ پر کشیدگی عروج پرپہنچ گئی۔ ڈھاکا میں ہندو پنڈت کی حالیہ گرفتاری بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بھارت میں ہندو گروہوں نے بنگلا دیش کے خلاف مظاہرے کیے ، لیکن بنگلا دیش کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ظلم و ستم کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی نیوز میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین غلط معلومات پھیلا رہے ہیں اور کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات اگست میں کشیدہ ہوئے تھے جب طلبہ کی زیر قیادت احتجاج نے وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا جو بھارت فرار ہو گئیں اور وہاں پناہ لے لی۔ 25 نومبر کو بنگلا دیشی ہندو پنڈت کرشنا داس کو ڈھاکہ ائر پورٹ سے بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر ساحلی شہر چٹاگانگ میں اکتوبر کی ایک ریلی کے دوران بنگلا دیشی قومی پرچم کے اوپر زعفرانی ہندو مت کا پرچم بلند کرنے کا الزام تھا۔ کرشنا داس ملک میں مذہبی اقلیتوں کے ایڈوکیٹ رہے ہیں۔ جولائی تک وہ کرشنا بین الاقوامی سوسائٹی کے رکن رہے، جسے ہرے کرشنا تحریک بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں بچوں کا اسیتصال کا الزام لگنے کے بعد سوسائٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد بھارت میں بھی مظاہرین نے داس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ان کی ضمانت کے لیے اگلی سماعت 2 جنوری کوہو گی۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی قومی کمیٹی کے رکن وی بھاگیا نے الزام عائد کیا ہے کہ بنگلا دیش میں ہندونسل کشی کا شکار ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے