انقرہ:ترکیہ کی جانب سے شام میں بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت کو فوجی اور دیگر نوعیت کی مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ترک وزیر دفاع یاسر گلر نے اپنے بیان میں کہا کہ شام کی عبوری حکومت کو موقع فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے وعدے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل کرسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ شام کی عبوری حکومت کی درخواست پر ضروری مدد، بشمول فوجی امداد، فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ یاسر گلر نے کہا کہ ترکیہ شام کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور نئی حکومت کے وعدوں، جن میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور تمام اداروں کے احترام کو یقینی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہیتہ التحریر الشام کی سربراہی میں شام کے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کرتے ہوئے عبوری حکومت قائم کی گئی ہے۔
دوسری طرف سابق شامی صدر بشار الاسد، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اقتدار میں تھے، باغیوں کے حملے کے بعد ملک چھوڑ کر روس منتقل ہو چکے ہیں۔ فی الحال وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وہیں قیام پذیر ہیں، تاہم ان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

