بشارالاسد اور اُن کے والد حافظ الاسد نے مل کر شام پر 53 سال حکومت کی۔ یہ پورا دورِ حکومت ایسا تھا جیسے پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔ حافظ الاسد بھی اقتدار کے ایوانوں پر پوری طرح قابض و متصرف تھے اور بشار الاسد بھی۔
ماہِ رواں کے اوائل میں شام کی اپوزیشن کے دستوں نے ملک کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرکے بشارالاسد کو معزول کردیا اور ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ بشار الاسد نے بھاگ کر روس میں پناہ لی ہے جو ایک طویل مدت سے اُن کا اور اُن کے والد کا حامی اور مددگار رہا ہے۔
روسی قیادت نے بشارالاسد کو ماسکو میں پناہ تو دے دی ہے تاہم اُن کے لیے ایسی زندگی منتخب کی گئی ہے جس میں صرف سادگی اور گمنامی ہوگی۔ بشارالاسد اور ان کی فیملی کو ماسکو میں گمنامی کی زندگی بسر کرنا پڑے گی کیونکہ اُن کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
روس کے حکام نے برطانوی اخبار دی گارجین کو بتایا ہے کہ بشارالاسد کو منظرِعام پر نہیں لایا جائے گا کیونکہ اُن پر کوئی بھی قاتلانہ حملہ کرسکتا ہے۔ شام میں سُنیوں کی اکثریت ہے اور بشارالاسد کا تعلق اقلیتی فرقے علوی یا علاوی سے ہے۔ انتہائی کم تعداد میں ہونے کے باوجود علاوی فرقے کے لوگ ایوان ہائے اقتدار سے چمٹے رہے ہیں اور اس کام میں روس اور ایران نے خوب مدد کی ہے۔
بشارالاسد کی معزولی کے بعد ملک بھر میں علاوی فرقے کے لوگوں کے خلاف نفرت تیزی سے ابھر کر سامنے آئی ہے اور لوگ انتقامی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ دو دن قبل مشتعل افراد نے علاوی فرقے کے لوگوں کے گڑھ لطاکیہ میں حافظ الاسد کے مقبرے کو بھی تاراج کردیا۔ حافظ الاسد کی قبر کو آگے لگانے کے بعد اُن کا تابوت نکال کر سڑک پر پھینک دیا گیا۔

