ویب ڈیسک — سعودی عرب نے افغانستان میں اپنا سفارتی مشن بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب نے تین سال قبل افغانستان میں اپنا سفارتی مشن اُس وقت بند کر دیا تھا جب امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج کا انخلا جاری تھا اور طالبان تیزی سے ملک پر قابض ہو رہے تھے جس سے افراتفری کا ماحول تھا۔
سعودی عرب کے کابل میں سفارت خانے سے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام کو خدمات کی فراہمی کے لیے سعودی عرب کی حکومت کی خواہش پر کابل میں سعودی مشن اپنی سرگرمیوں کی دوبارہ بحالی کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کابل میں سعودی عرب کے سفارتی مشن کے ارکان کی تعداد کیا ہو گی۔
سعودی عرب نے 15 اگست 2021 کو اعلان کیا تھا کہ وہ کابل سے اپنے سفارت کاروں کا انخلا کر رہا ہے۔
اس وقت سفارتی عملے کے انخلا کی وجہ افغانستان کی غیر مستحکم صورتِ حال کو قرار دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 15 اگست 2021 کو طالبان کابل میں داخل ہو گئے تھے اور انہوں نے بعد ازاں ملک کا انتظام سنبھالنے کا اعلان کیا تھا۔


سعودی عرب نے تین ماہ بعد نومبر 2021 میں کابل میں قونصلر سروسز دوبارہ شروع کر دی تھیں جب کہ افغانستان میں سعودی ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر بھی شہریوں کو انسانی بنیادوں پر مدد کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار کو تین برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران وہاں ان کی عبوری حکومت بھی قائم ہے۔ البتہ کسی بھی ملک نے تاحال افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
افغانستان میں جب 1996 کے بعد طالبان پہلی بار حکومت میں آئے تھے تو تین ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ البتہ طالبان کی یہ حکومت 2001 میں افغانستان پر غیر ملکی افواج کے حملے کے بعد ختم ہو گئی تھی۔
(اس خبر میں خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے معلومات شامل کی گئی ہیں۔)
