حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ کے سندھ پولیس سمیت مختلف شعبہ جات اور عالمی سماجی تنظیموں کے تعاون سے حیدرآباد میں صنفی تشدد کی روک تھام اور متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کر کے تمام مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے کے لیئے حیدرآباد میں ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر کا افتتاح کردیا گیاہے۔ آٹوبھان روڈ پر واقع خواتین پولیس اسٹیشن میں ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر کا افتتاح ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ محمد اقبال میمن نے ربن کاٹ کرکیا اور سینٹر کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ اس موقع پرصوبائی وزیر ترقی نسواں شاہینہ شیر علی،ڈی آئی جی پی کرائم اینڈانویسٹیگیشن عامر فاروق,ڈپٹی سیکرٹری محکمہ داخلہ صائمہ فاطمہ بلوچ، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن, یونائٹڈنیشن پاپولیشن فنڈ کے سندھ ریجنل ہیڈ مقدر شاہ, بین الاقوامی سماجی تنظیم پاتھ فائنڈر انٹرنیشنل کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مدیحہ لطیف, پالیسی منیجر پاتھ فائنڈر انٹرنیشنل روبینہ بروہی و دیگر اسٹک ہولڈرز نے تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ سندھ محمد اقبال میمن نے کہاکے سندھ کے اندر صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے کیسز کو حل کرنے کے لیے حکومت سندھ اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹرایک اچھا اقدام ہے،اس ون ونڈو سینٹرکے ذریعے صنفی تشدداور حراسمنٹ سمیت متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کیاجائیگا اورشکایت کنندہ خواتین کو اس سینٹرمیںطبی،نفسیاتی، سماجی ودیگر سہولیات فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکے ظلم سے متاثرہ خواتین پہلے پولیس اسٹیشنز کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوتی رہتی تھی اور انصاف کی تلاش میں تھی ،اس سینٹر میں بغیر کسی علاقائی روکاوٹوں کے شکایات سن کر قانونی حل نکالاجائے گا۔ انہوں کہاکے ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر پر شکایت لے کر آنے والی خواتین کو قانون کی پناہ حاصل ہوگی جب تک متاثرہ خاتون کو انصاف نہیں مل جاتا تب تک اس سینٹر کی امداد اس کو حاصل ہوگی۔ انہوں کہاکے انکی یہی دعاہے کہ جس طرح اس سینٹر کے عمل کا قیام کیا گیا ہے اسی طرح اس کو فعال بھی رکھاجائے گا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ترقی نسواں شاہینہ شیر علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے کہاکے سندھ میں خواتین پر صنفی تشدد کے بڑھتے ہوئے کیسز کے خلاف ون ونڈو سینٹر کی حمایت کرتی ہوں اور اس سینٹر سے متاثرہ خواتین کے تمام تر مسائل حل ہوںگے اور یہاں خواتین کو طبی،نفسیاتی اور سماجی کی تمام سہولیات بھی دستیاب ہوںگی۔ صوبائی وزیر ترقی نسواں نے مزید کہاکے متاثرہ خواتین ہمیشہ یہی چاہتی ہیں کے انکے مسائل جلداز جلد رازداری سے حل ہوجائیں تاکہ معاشری میں انکی بدنامی ناہوں۔ انہوں کہاکے جو خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ انکو تشدد کا نشانا بنایا گیاہے یا حراس کیا گیا ہے وہ بغیر کسی دباو کے یہاں پر آکر اپنی شکایات درج کرواسکتی ہیں ۔ انہوں کہاکے حکومت سندھ کایہ عزم ہے کے سندھ میں رہنے والی تمام خواتین بغیر کسی خوف معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کریں،یہ منصوبہ حکومت سندھ کے مختلف شعبہ جات اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ جدوجہد کا ایک نتیجہ ہے۔اس موقع پر ڈی آئی جی پی کرائم انویسٹیگیشن عامر فاروق نے کہاکے سندھ پولیس ہمیشہ سے صنفی تشدد کے خلاف صف اول میں رہی ہے, ہم نے خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیئے وومین پولیس اسٹیشن کو ون اسٹاپ پروٹیکسن سینٹر میں تبدیل کردیاہے اس طرح کے سینٹرز کے قیام پر پہلے مرحلے میں سندھ 12 اضلاع میں کام جاری ہے جو 2025 تک مکمل ہوگا اور2026 میںدوسرے مرحلے میں سندھ کے باقی اضلاع میں کام شروع ہوگا- ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے کہاکے ان کو فخر ہے کہ اس طرح کی ون ونڈو سہولت صنفی تشدد سے متاثرہ خواتین کو حیدرآباد میں میسر ہوگی، حیدرآباد میں خواتین پر تشدد کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہواہے جس کو نمٹنے کے لیئے یے سندھ حکومت کا اچھا اقدام ہے حیدرآباد کی انتظامیہ اور پولیس اس مد میں جو بھی ضروری سپورٹ ہوگی وہ فراہم کرے گی۔ اس موقع پر یونائیٹیڈ نیشن پاپولیشن فنڈ کے نمائندے مقدر شاھ نے کہاکے یے ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر سندھ حکومت, سندھ پولیس, بیرونی دولت مشترکہ, یواین پاپولیشن فنڈ, پاتھ فائینڈر انٹرنیشنل سمیت 13 اداروں کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے، اس سینٹرمیں صنفی تشدد اور حراسمنٹ سے متاثرہ خواتین کے تحفظ کے لیئے ایک ون ونڈو سینٹر کا قیام عمل لایاگیاہے۔ اس سینٹر کے ذریعے کسی بھی متاثرہ خاتون کو ایک چھتری کے نیچے انصاف کی فراہمی ممکن ہوگی متاثرہ خواتین اس سینٹر کے ذریعے اپنے نئے سفر کا آغاز کرسکے گی۔
