کوئٹہ(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضٰی خان کاکڑنے کہا کہ29دسمبر قبائلی سربراہان کی مشاورت مسائل کے حل ،اتحاد واتفاق میں سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے جماعت اسلامی نے بلوچستان کے مسائل کواجاگراورحل کیلئے ایوان کے باہر اوراندر جوجمہوری ،سیاسی،قبائلی جدوجہد شروع کیا ہے اہل بلوچستان سیاسی جمہوری دینی قبائلی قیادت وعوام ان کی تائید وحمایت حاصل ہیں ہم سب تائید وحمایت کرتے ہیں بلوچستان کو حقوق دینے،مسائل مشکلات اورناانصافی وزیادتیوں سے نجات کیلئے متحدہ متفقہ مخلصانہ جدوجہد کی ضرورت ہے بلوچستان کے مسائل کو طاقت ،جوش سے نہیں سیاست وہوش سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان بھر کے تمام اقوام وعلاقوں کے مسائل کواجاگر اورحل کے حوالے سے جو کرادر اداکیا ہے وہ قابل تقلید وقابل تعریف ہے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے صوبائی دفترمیں اجلا س سے خطاب اوروفودسے ملاقات کے دوران گفتگومیں کیا انہوں نے کہاکہ ہمارے سیکورٹی کے نام پر سیکورٹی ادارے فنڈزتو استعمال کرتے ہیں مگرعوام کی جان ومال محفوظ نہیں اُلٹاسیکورٹی ا دارے کرپشن وکمیشن کے ادارے بن گیے ہیں مصور کاکڑ سمیت عوام کی جان ومال کی محفوظ نہیں کروڑوں روپے کے بجٹ سے سیف سٹی پروجیکٹ ہزاروں کیمرے شہر میں لگادیے لیکن جب چوری ہوتی ہے اس دوران کیمرے کام بند کردیتے ہیں ۔ایسے کیمروں کا کیا فائدہ جو چور لٹیرے کی ریکارڈنگ کے دوران بند ہوجائے ایسے سیکورٹی فورسزکا کیا فائدہ جو چیک پوسٹوں بارڈرزپر رشوت بھتا مانگ رہے ہوسیکورٹی فورسزوحکومت اور ادارے عوام کی حفاظت میں ناکام رہے ۔مقتدرقوتیں وحکمران بلوچستان کی بے امنی پر پانی کے بجائے تیل ڈال رہے ہیں ۔بے امنی کی لہرنے بلوچستان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔کوئٹہ مستونگ ،موسیٰ خیل،دکی ،لورالائی ،پنجگور،لورالائی ،ژوب ،نوشکی دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔پرامن علاقوں میں جہاں پہلے ایف سی وسیکورٹی فورسزنہیں تھے وہاں امن تھااب یہ فورسزوہاں گیے تو بدامنی شروع،ٹرک وشاہراہ ڈرائیورزوعوام غیر محفوظ ہیں حکومت ،سیکورٹی فورسزاورعسکری ادارے عوام کی جان مال کی حفاظت میں ناکام ہوئے۔
