English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

2024ء اسپین جانیوالے غیر قانونی تارکین وطن کیلیے خطرناک رہا

القمر

میڈرڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) رواں برس سمندری اور زمینی راستوں سے بہتر زندگی کی تلاش میں اسپین جانے کی کوشش میں 10ہزار سے زائد تارکین وطن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ہسپانوی گروپ کیمینانڈو فرنتیراس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال کشتیوں سے اسپین پہنچنے کی کوشش میں ہر روز 30 افراد ہلاک ہو ئے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ہلاکتوں میں 58 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ہسپانوی گروپ کا کہنا ہے کہ پر خطر راستوں کے علاوہ ہلکی ساخت کی کشتیوں کا استعمال اور ریسکیو کے کام میں وسائل کی کمی بھی ہلاکتوں کا باعث ہیں۔ گروپ کی بانی ہیلینا میلینو کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی بڑی تعداد ریسکیو اور حفاظتی نظاموں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک سال میں اتنی زیادہ ہلاکتیں ایک ناقابل قبول المیہ ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں اکثر کا تعلق افریقی ممالک سے ہے،جب کہ دیگر پاکستان سمیت دنیا کے 28 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں پاکستان سے ہزاروں نوجوان بہتر مستقل کی تلاش میں یورپ کا رخ کرتے رہے ہیں اور بہت سے واقعات میں کئی افراد کی ہلاکتیں بھی ہوئیں ہیں۔ مغربی افریقا سے اس سال ہزاروں تارکین وطن نے جزائر کینری کا رخ کیا جو کہ افریقی ساحل کے پاس واقع اسپین کا ایک جزیرہ نما ہے۔ اس جزیرہ نما کو براعظم تک رسائی کے لیے ایک اہم راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیمینانڈو فرنتیراس کی رپورٹ کے مطابق 10ہزار 457 ہلاکتیں 15 دسمبر تک ریکارڈ کی گئی تھیں جن میں زیادہ تر اس جزیرہ نما کے راستے میں واقع ہوئیں۔ بحر اوقیانوس کے اس راستے کو دنیا کے پر خطر ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہسپانوی گروپ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو مرتب کرتے ہو ئے لاپتا افراد کے خاندانوں اور زندہ بچائے جانے والوں سے متعلق سرکاری اعداد وشمار پر انحصار کرتا ہے۔ گروپ کے اعدادو شمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میںایک ہزار 538 بچے اور 421 خواتین بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپریل اور مئی تارکین وطن کی اموات کے حوالے سے مہلک ترین رہے۔ 2024 ء میں موریطانیہ سے آنے والے لوگوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔فروری میں اسپین نے موریطانیہ کے لیے 21 کروڑ یورو کی امداد کا اعلان کیا تھا تاکہ ملک انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کر سکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے