امریکا کے ایک معروف اخبار نے بتایا ہے کہ بھارتی قیادت نے مالدیپ کے صدر محمد معزو کو برطرف کرانے کی سازش کی تھی اور اس مقصد کے لیے مالدیپ کی پارلیمنٹ کے ارکان میں مجموعی طور پر 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔
روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے گروہوں کو بھی رقوم دی گئی تھیں۔ یہ رقوم بھارت سے بھیجی گئی تھیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ مالدیپ کی اپوزیشن جامعت مالدیوین ڈیموکریٹک پارٹی نے بھارت سے 60 لاکھ ڈالر حاصل کیے تھے۔ یہ سازش 2024 کے اوائل میں تیار کی گئی تھی۔ بعض وجوہ کی بنیاد پر یہ سازش ناکام رہی۔
’’جمہوریت کی تجدید کا اقدام‘‘ کے زیرِعنوان تیار کی جانے والی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالدیپ کی پارلیمنٹ کے 40 ارکان کو رشوت دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا۔ ان میں محمد معزو کی پارٹی کے چند ارکان بھی شامل تھے۔ بھارتی قیادت صدر محمد معزو کے مواخذے کی راہ ہموار کر رہی تھی۔
مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید نے کہا ہے کہ اُنہیں ایسی کسی بھی سازش کا علم نہیں تھا اور یہ بھی کہ بھارت کسی ایسی کسی بھی سازش کی حمایت اور مدد نہیں کرے گا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چند فوجی افسران اور دیگر سیاست دانوں کو بھی رشوت دینے کی تیاری کی گئی تھی۔

