غزہ /تل ابیب /دمشق /نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز)اسرائیل کی غزہ میں وحشیانہ بمباری سے مزید 71 فلسطینی شہید ہوگئے۔ شام میں ایرانی میزائل یونٹ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابقغزہ کی پٹی میں 24 گھنٹے میں اسرائیل کے34 فضائی حملوں میں 71 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ ایک تحریری بیان میں غزہ میں حکومت کے میڈیا آفس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج فضائی حملوں کے ذریعے غزہ کی پٹی کے نہتے لوگوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے‘ متعدد علاقوں بالخصوص شمالی شہر غزہ پر فضائی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں اب بھی سڑکوں اور ملبے تلے پڑی ہیں اور اسرائیل لاشوں کو جمع کرنے کی اجازت بھی نہ دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کتائب شہید عزالدین القسام، جو حماس کا عسکری ونگ ہے، نے جمعے کو ایک شاندار کارروائی کے دوران صیہونی دشمن کے 4 مرکاوا ٹینکوں کو دھماکا خیز مواد کے ذریعے تباہ کر دیا۔ یہ جرات مندانہ کارروائی شمالی غزہ کے علاقے جبالیا البلد کے مشرقی چوراہے پر قابض فوج کی پیش قدمی کے دوران انجام دی گئی۔ شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی فوج نے اس کے ملٹری یونٹس اور تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رکھا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے 120 کمانڈوز نے شام میں ایران کی زیر زمین میزائل فیکٹری پر دھاوا بول دیا۔ اسرائیلی کمانڈوز نے ڈھائی گھنٹوں پر مشتمل آپریشن کے دوران ایرانی میزائل یونٹ کے تمام حصوں کو تباہ کرکے اسے مکمل طور پر غیر فعال کردیا۔ یہ اب تک سب سے بڑے کارروائی تھی۔ اسرائیلی فورس کے کمانڈوز نے یہ کارروائی 8 ستمبر کو کی تھی جب وہاں بشار الاسد کی حکومت قائم تھی تاہم اب اس آپریشن کی وڈیوز، تصاویر اور تفصیلات شیئر کی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں واقع انڈونیشین اسپتال پر حملے کر کے طبی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ، اسپتال کے متعدد شعبے تباہ کر دیے گئے، انڈونیشین اسپتال کے ارد گرد مکانات و اسکولوں کو بھی نذر آتش کر دیاگیا۔حرکتہ المقاوتہ الاسلامیہ ( حماس) نے ایک بیان میں کہا کہ انڈونیشین اسپتال اور اسکولوں پر حملے کی اسرائیلی وحشیانہ کارروائی غزہ کے عوام کے خلاف جاری نسل کشی اور جبری ہجرت کے منصوبے کا تسلسل ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری، بالخصوص عالمی ادارہ صحت اور ریڈ کراس کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض فوج کے ان جرائم کو فوری طور پر روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے غزہ میں اسپتالوں پر حملوں سے صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 12 اکتوبر 2023ء سے 30 جون 2024ء کے درمیان ہونے والے حملوں سے متعلق رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی عوام کی طبی سہولیات تک رسائی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں‘ غزہ میں صحت کے نظام کی تباہی اور ان حملوں میں مریضوں، عملے اور دیگر شہریوں کی اموات کی اتنی زیادہ تعداد بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کو نظر انداز کرنے کا براہ راست نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں 27 اسپتالوں اور 12 دیگر طبی مراکز پر 136 حملوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ڈاکٹروں، نرسوں، طبی عملے اور دیگر شہریوں کا جانی نقصان ہوا، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان حملوں نے شہری بنیادی ڈھانچے کو اگر مکمل طور پر تباہ نہیں کیا تو کافی نقصان پہنچایا ہے۔
