امریکا کے ارب پتی آجر ایلون مسک کا شمار اُن شخصیت میں ہوتا ہے جو بات بے بات تنازعات کو جنم دے کر اپنے آپ کو خبروں میں in رکھنے کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کا دامن تھام کر اپنے لیے امریکی حکومت میں اہم مقام حاصل کرنے کی منزل تو یقینی بنالی ہے۔ انہیں حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اُن کی اصلاح پر مامور ادارے کا مشترکہ سربراہ بنایا گیا ہے۔
ایلون مسک کو متنازع بیانات دینے اور کسی بھی شخصیت کے خلاف زہر اگل کر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا شوق ہے۔ اب انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ آزاد کے صدارتی تمغے کے لیے جن لوگوں کو منتخب کیا گیا ہے وہ اس قابل ہیں نہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز 19 نمایاں ترین شخصیات کو آزادی سے متعلق صدارتی تمغے سے نوازا ہے۔ اِن میں ارب پتی مخیر شخصیت جارج سوروز بھی شامل ہیں۔
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ جارج سوروز اور اِسی قبیل کے دیگر افراد کو آزادی سے متعلق صدارتی تمغہ دینا محض دھوکا دہی ہے۔ ایک بیان میں ایلون مسک نے کہا کہ جارج سوروز جیسے لوگوں کو صدارتی تمغے سے نواز کر امریکی عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکی جارہی ہے۔
ایلون مسک نے صدارتی تمغے سے نوازے جانے والوں کے بارے میں متنازع ریمارکس تو دیے ہیں تاہم اپنے ریمارکس کی کوئی بنیاد بیان نہیں کی۔ جارج سوروز کا شمار امریکے مالدار ترین افراد میں ہوتا ہے۔ وہ صنعت کار اور سرمایہ ہونے کے ساتھ ساتھ مخیر بھی ہیں اور سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرتے رہے ہیں۔

