دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام کے عبوری وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ آیندہ ماہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 400 فیصد بڑھا دی جائیں گی۔ اس فیصلے پرعمل سے پہلے سرکاری انتظامی ڈھانچے کی تنظیم نو کی جائے گی، تاکہ حکومت میں احتساب کا عمل مضبوط کیا جائے۔ حکومتی اعلان کے مطابق اس مد میں 12کروڑ 70لاکھ ڈالر مزید درکار ہوں گے۔یہ اضافی اخراجات حکومتی وسائل کے علاوہ امدادی رقوم سے پورے کیے جائیں گے۔ عبوری حکومت کو توقع ہے کہ مختلف ممالک کے بینکوں میں اس کے منجمد کی گئی رقوم بھی بحال ہو جائیں گی۔ وزیر خزانہ محمد ابازید نے کہا یہ ملک میں موجودہ معاشی تنگی کا فوری تدارک کرنے کی کوشش کی ہے۔ادھر امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ جلد ہی شام کے لیے انسانی امداد پر پابندیوں میں نرمی کرنے اور دمشق میں نئی حکومت کے لیے دیگر امداد کو محدود کرنے والی پابندیوں کو ہٹائے بغیر بنیادی سامان کی ترسیل کو تیز کرنے کا اعلان کرے گی۔ یہ قدم جسے امریکی انتظامیہ نے ہفتے کے آغاز میں منظور کیا تھا محکمہ خزانہ کو امدادی گروپوں اور کمپنیوں کو چھوٹ جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ امداد کی اس قسم میں پانی، بجلی اور دیگر انسانی امداد کی شکلیں شامل ہیں۔ چند روز قبل دمشق میں امریکی سفارت خانے نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی حکام نے دمشق میں عبوری حکام سے ملاقات کی۔ سفارت خانے کے ایک بیان میں وضاحت کی گئی کہ امریکی حکام نے ایران کو شام میں دوبارہ مستحکم ہونے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شامی شہریوں کی مکمل نمائندگی اور ایک جامع سیاسی عمل کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس کے علاوہ امریکی شہریوں کے تحفظ اور شام میں لاپتا ہونے والوں کا پتا چلانے کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ ملاقات میں داعش کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
