English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی کانگریس میں غیرقانونی تارکین وطن کو جرائم کے شبہ میں زیر حراست لینے کا بل

امریکی ایوان نمائندگان میں منظور کیے گئے ایک نئے بل کے تحت وفاقی حکومت پر لازم ہو گا کہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر رہنے والے والے تارکین وطن کو کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کے شبہ میں زیر حراست لے۔

یہ بل اب امریکی کانگریس کے دوسرے ایوان سینیٹ میں بھیج دیا گیا ہے جو جلد ہی اس پر ووٹنگ کرے گی۔

اس بل کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہنے والے تارکین وطن کو ان پر کسی جرم کا باقاعدہ الزام لگائے جانے کے بغیر بھی حراست میں لیا جا سکے گا۔

خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق ایوان نمائندگان کی طرح اس بل کو ری پبلیکن کی اکثریت کی سینیٹ میں بھی کچھ ڈیموکریٹک سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اور اس پر ووٹ متوقع طور پر جمعرات کو ہی ہو سکتا ہے۔




ایوان نمائندگان میں "لیکن رلی ایکٹ” کے نام کا یہ بل 159 کے مقابلے میں 264 ووٹوں سے منگل کا پاس ہوا تھا۔ ایوان میں 48 ڈیموکریٹک ارکان نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

ایک سو ارکان پر مشتمل سینیٹ میں اس وقت ری پبلیکن ارکان کی تعداد 52 ہے جبکہ اس کے ایوان میں پاس ہونے کے لیے 60 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

اس بل کا نام ریاست جارجیا میں ایک کالج کے طالب علم کے نام پر رکھا گیا ہے جسے وینیزویلا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے گزشتہ سال قتل کر دیا تھا۔ قاتل پہلے بھی اشیا چوری کرنے کے جرم میں پکڑا گیا تھا۔

سینیٹ میں اس بل پر متوقع ووٹنگ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز سے 11 روز قبل ہو رہی ہے۔


صدر بائیڈن ڈاکا پروگرام کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی 18 جون 2024

صدر بائیڈن ڈاکا پروگرام کی بارہویں سالگرہ کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ فوٹو اے پی 18 جون 2024

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں غیر قانونی امیگریشن اور تارکین وطن کی جانب سے کیے گئے جرائم کی روک تھام کا عزم کیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق تعلیمی اداروں اور تھنک ٹینک کی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ تارکین وطن کی جرائم میں ملوث ہونے کی شرح امریکہ میں پیدا ہونے والے شہریوں کے مقابلے میں کم ہے۔

سینیٹ میں اکثریتی ری پبلیکن پارٹی کے رہنما چک شومر نے جمعرات کو کہا کہ انہیں امید ہے کہ بل کو دونوں پارٹیوں کے ارکان کی اتنی حمایت حاصل ہو گی کہ اسے آگے بڑھایا جاسکے گا۔

اس بل کے سپانسرز جان فیٹر مین اور روبن گیلیگو سمیت کئی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سینیٹر مارک کیلی بھی اس بل کے حق میں ہیں۔

امریکی سینیٹر مارک کیلی 9 جنوری 2025 کو تارکین وطن سے متعلق بل پر ووٹنگ کے لیے کانگریس کی بلڈنگ میں جاتے ہوئے ، فوٹو اے ایف پی

امریکی سینیٹر مارک کیلی 9 جنوری 2025 کو تارکین وطن سے متعلق بل پر ووٹنگ کے لیے کانگریس کی بلڈنگ میں جاتے ہوئے ، فوٹو اے ایف پی

ایوان میں بات کرتے ہوئے شومر نے کہا کہ ڈیموکریٹ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ وہ بل پر تفصیلی بحث کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم ترامیم بھی پیش کریں اور اس بل کو منظور کرلیں۔

ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کیٹی برٹ نے کہا کہ یہ ایک عام فہم کی قانون سازی ہے اور امریکی عوام نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

نیویارک: امریکہ کی سرخ اور نیلی سیاست میں پھنسے سرحد عبور کرنے والے غیرقانونی تارکین وطن





please wait



No media source currently available

دوسری طرف بہت سے ڈیموکریٹک قانون ساز اس بل کو قانون نافذ کرنے والوں کی جانب سے نسل پر مبنی لوگوں کو پروفائیل کرنے کا ایک طریقہ قرار دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ بل لوگوں کو آئین کے فراہم کردہ تحفظات کو کچلنے کے مترادف ہے۔

اس تناظر میں بات کرتے ہوئے ڈیموکریٹک نمائندہ ویرونیکا ایسکوبار نے کہا کہ یہ اقدام تارکین وطن کے لیے قانون کے مطابق عمل کو ختم کردے گا اور اس سے ڈاکا پروگرام کے تحت امریکہ میں بچپن میں آئے لوگوں کے لیے بھی قانون کا عمل متاثر ہوگا۔

رائٹرز کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما اس بل میں ترامیم لانے پر اصرار کریں گے تاکہ جامع امیگریشن اصلاحات کا حصول ممکن ہو سکے۔

(اس خبر میں شامل معلومات رائٹرز سے لی گئی ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے