امریکا کی سپریم کورٹ نے ہش منی کیس میں سنائی جانے والی سزا کا اعلان موخر کرنے کی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی استدعا مسترد کردی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ سزا سنانے کے لیے وقت کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔ اس کا تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی صدرِ امریکا کی حیثیت سے کی جانے والی حلف برداری سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹرمپ 20 جنوری کو دوسری بار امریکا کے صدر کا حلف اٹھائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے زبانی استدعا کی تھی کہ سزا فی الحال نہ سنائی جائے کیونکہ اِس سے اُن کی تقریبِ حلف برداری متاثر ہوگی۔
یاد رہے کہ نیو یارک کی ایک کورٹ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہش منی کیس میں سزا 10 جنوری کو سنائی جائے گی۔ امریکی میڈیا کی پوری توجہ اس کیس کے فیصلے پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے زبانی استدعا مسترد کردیے جانے پر کہا ہے کہ وہ باضابطہ درخواست بھی دائر کرسکتے ہیں۔ اُنہوں نے عدالت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ عدالتیں من مانی کر رہی ہیں اور سیاسی معاملات کو الجھانے والی باتیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے عدلیہ پر اپنی تقریبِ حلف برداری کو داغ دار کرنے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔

