English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیلی فورنیا کی آگ نے کس طرح ایک پھلتی پھولتی سیاہ فام کمیونٹی کے مستقبل کو خاکستر کردیا؟

کیلی فورنیا کی آتشزدگی نے صرف مشہور شخصیا ت کے عالیشان گھر ہی نہیں متوسط طبقے کی ایک سیاہ فام کمیونٹی کے چھوٹے بنگلوں کو بھی خاکستر کر دیا ۔

کیلی فورنیا کے جنگلات کی آگ سے متاثرہ علاقوں کی خبروں میں مشہور شخصیات کے بڑے بڑے پر تعیش مکانات اور فلمی مقامات کو راکھ کے ڈھیر میں بدلتے دیکھنے کے مناظر سے ایسا لگ سکتا ہے جیسے لاس اینجلس میں جنگلات کی تباہ کن آگ نے صرف فلم اسٹار ز اور مشہور شخصیات کے ایک گروپ کو متاثر کیا ہے ۔

لیکن الٹاڈینا کے ارد گرد جھلسے ہوئے مضافات سے گزریں تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس آتشزدگی نے سیاہ فام گھرانوں کی نسلوں کے ایک شاندار علاقے کو بھی جلا کر راکھ کر دیا ہے۔

الٹا ڈینا میں ایک فائر فائٹر ایک جلتے گھر پر پانی کی اسپرے کر رہا ہے، فوٹو اے پی 8 جنوری 2025

الٹا ڈینا میں ایک فائر فائٹر ایک جلتے گھر پر پانی کی اسپرے کر رہا ہے، فوٹو اے پی 8 جنوری 2025

الٹاڈینا میں آباد یہ وہ گھرانے تھے جنہوں نے ایک عرصہ قبل ،امریکہ کے دوسرے مقامات پر مکانات کے قرضوں کے نظام میں موجود نسلی امتیازی طریقوں سے بچنے کے لیے یہاں اپنے گھر بنائے تھے ۔ اسی لئےجنگلات کی آگ سے خاکستر ہو جانے والا یہ وہ علاقہ تھا جہاں عالیشان مکانات کے ساتھ ساتھ مختلف نسلی اور اوسط آمدنی کے حامل سیاہ فام آبادی کے چھوٹے چھوٹے بنگلے بھی موجود تھے۔

سول رائٹس کے دور کے دوران مڈل کلاس سیاہ فام امریکیوں کے لئےالٹا ڈینا ایک ایسی غیر معمولی سر زمین بن گئی بن گئی تھی جہاں وہ کسی امتیازی سلوک کے بغیر رہ سکتے تھے ۔ انہوں نے اپنے مکانوں کی ملکیت کو اپنے خاندانوں ہی میں رکھا اور دوسروں کو پھلنے پھولنے میں مدد کی ۔ آج کل وہاں سیاہ فام لوگوں کی کھروں کی ملکیت کے شرح 81.5 ہے جو قومی شرح کے مقابلے میں لگ بھگ دوگنی ہے۔




مردم شماری کے اعدادو شمار کےمطابق الٹا ڈینا کی 42،000 لوگو ں کی کمیونٹی محنت کش اور ہنر مند گھرانوں، فنکاروں،اینٹر ٹینمینٹ انڈسٹری کے کارکنوں اور پروفیشنل اور انتظامی یا اعلی ملازمتوں کے حامل افراد پر مشتمل ہے ۔ لگ بھگ 58 فیصد رہائشی غیر سفید فام ہیں جن میں سے ایک چوتھائی اسپینش اور لگ بھگ پانچواں حصہ سیاہ فام ہے۔

اس علاقے میں سیاہ فام لوگوں کی ملکیت کے مکانات کی بلند شرح اس اعتبار سے متاثر کن ہے کہ 2023 میں امریکی کمیونٹی کی مردم شماری کے مطابق ، الٹا ڈینا کی 15 ہزار رہائش گاہوں میں سے 92 فیصد اپارٹمنٹ یا ٹاؤن ہاؤس نہیں بلکہ بڑے مکانات ہیں، ہیں ۔ مکینوں کی سالانہ اوسط آمدنی ایک لاکھ 29 ہزار ڈالر سے زیادہ ہے۔ صرف سات فیصد رہائیشی غربت میں رہ رہے ہیں ۔


ایک پولیس آفیسر لاس اینجلس میں لوگوں کو آگ سے متاثرہ علاقے سے باہر جانے کی ہدایات دے رہا ہے۔ 7 جنوری 2025

ایک پولیس آفیسر لاس اینجلس میں لوگوں کو آگ سے متاثرہ علاقے سے باہر جانے کی ہدایات دے رہا ہے۔ 7 جنوری 2025

الٹا ڈینا میں مکان بنانے والی سیاہ فام کمیونٹی میں سے کچھ کو ڈر ہے کہ اپنی عمر بھر کی محنت کی کمائی سے الٹا ڈینا میں اپنے گھر بنانے کے بعد ان کی زندگی میں جو خوشحالی اور بہتری آئی تھی کیلی فورنیا کی تاریخ کی انتہائی تباہ کن آتشزدگی کے بعد اب شاید ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو سکتی ہے ۔ ان میں سے بہت سوں کے لیے بحالی اور تعمیر نو استطاعت سے باہر ہو سکتی ہے۔

بائیس سالہ سمینتھا سنتورو جو کال پولی پومونا کے علاقے میں اپنے سیاہ فام گھرانے میں کالج جانے والی پہلی طالبہ ہیں، اس وقت بہت بہت برہم ہوئی تھیں جب آگ کی ابتدائی خبریں زیادہ تر مشہور شخصیات پر مرکوز رہیں ۔ وہ اور ان کی بہن،جو یو نیورسٹی آف کیلی فورنیا ، برکلے میں زیر تعلیم ہیں فکر مند ہیں کہ ان کے میکسیکن تارکین وطن والدین اور ان کے ورکنگ کلاس پڑوسی،جو الٹا ڈینا میں اپنے گھر کھو چکے ہیں کیسے آگے بڑھیں گے ۔




ان کےخاندان کے دو بیڈ روم اور پول پر مشتمل گھر کے مالک مکان نے ان کےگھر کا کرایہ کبھی بھی ساڑھے سولہ سو ڈالر سے زیادہ نہیں بڑھایا تھا۔ جس کے نتیجے میں سنتورو گھرانے کے لیے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کرنا ممکن ہوا تھا۔

اس وقت وہ عارضی طور پر پیسیڈینا میں اپنے ایک رشتے دار کے ساتھ رہ رہی ہیں ۔ خاندان کے پاس کرائے کے مکان کی انشورنس ہے لیکن وہ بہت زیادہ نہیں ہے ۔

انہوں نےروتے ہوئے کہا کہ، میرا خیال ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہے ۔ اپنے والدین کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ساری عمر جو کچھ کمایاتھا وہ اس گھر میں تھا۔

پیلیسیڈز میں ایک رہائیشی اپنے تباہ شدہ گھر سے ایک سیف نکال کر لا رہا ہے ،، فوٹو اے ایف پی 9 جنوری 2025

پیلیسیڈز میں ایک رہائیشی اپنے تباہ شدہ گھر سے ایک سیف نکال کر لا رہا ہے ،، فوٹو اے ایف پی 9 جنوری 2025

الٹاڈینا ٹاؤن کونسل کی چئیر پرسن وکٹوریہ نیپ کو فکر ہے کہ اس آتشزدگی نے ان خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان خاکستر مکانات وہ لوگ خریدیں گے اور تعمیر کریں گے جنہیں اس علاقے کی قدرو قیمت معلوم ہے ۔ لیکن اس سے الٹاڈینا کا نقشہ بدل جائے گا اور کم وسائل کے لوگوں کو غیر متناسب طور پر زیادہ نقصان پہنچے گا۔

ستاون سالہ کینتھ سنوڈن کا خاندان ان سیاہ فام گھرانوں میں شامل تھا جو 1962 میں ایک گھر خرید سکتے تھے ۔ وہ مکان اور لگ بھگ بیس سال قبل سنوڈن نے جو مکان خریدا تھا دونوں جل چکے ہیں ۔

کینتھ سنوڈن اپنے بھائی ، کم کے ساتھ اپنے تباہ شدہ مکان کا جائزہ لے رہا ہے ، فوٹو اے پی ، 10 جنوری 2025

کینتھ سنوڈن اپنے بھائی ، کم کے ساتھ اپنے تباہ شدہ مکان کا جائزہ لے رہا ہے ، فوٹو اے پی ، 10 جنوری 2025

وہ ریاستی اور وفاقی حکام کو چیلنج کر رہے ہیں کہ’’ آگ سے متاثرہ تمام کمیونٹیز کی منصفانہ طریقے سے مدد کی جائےکیوںکہ آپ کا چار کروڑ ڈالر کا مکان میرے20 لاکھ ڈالر کے مکان سے مختلف نہیں ہے ۔‘‘ سنو ڈن چاہتے ہیں کہ وہ زیرو فیصد سود پر مکان کا قرضہ حاصل کریں ۔ وہ کہتےہیں کہ،’’ ہمیں تعمیر نو اور اپنی زندگیاں نئے سرے سے گزارنے کے قابل بنائیں ۔ اگر آپ ایک جنگ لڑنے پر اربوں ڈالر خرچ کر سکتے ہیں تو ہمیں اس مقام پر واپس لانے میں مدد کریں جہاں ہم پہلےتھے ۔‘‘

شان براؤن نہ صرف اپنا گھر بلکہ اپنا پبلک چارٹر اسکول،بھی کھو چکی ہیں جسے انہوں نے الٹا ڈینا میں قائم کیا تھا۔ انہوں نے ساتھی سیاہ فام مکان مالگان کو جو اپنی پراپرٹی کے لیے دی جانے والی پیش کش سے لالچ میں آسکتے ہیں پیغام دیا کہ ، میں ان سے کہوں گی کہ وہ ڈٹے رہیں ، تعمیر نو کریں اور افریقی امریکیوں کی نسلی ترقی کو جاری رکھیں۔ ‘‘




وہ اور پیسیڈینا کی بڈ روز اکیڈیمی کا دوسرا عملہ، گرجا گھروں میں عارضی مقامات تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ، تعمیر نو کے لیے رقم اکٹھی کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے ۔ لیکن کچھ چرچ بھی جل چکے ہیں ۔ الٹا ڈینا کے بیپٹسٹ چرچ میں صرف بیل ٹاور واحد چیز ہے جو کافی حد تک ابھی تک قائم ہے ۔

چرچ کے پادری جارج وین السٹائن اور دوسرے لوگ چرچ کے ان دس سے زیادہ ارکان کی انشورنس اور وفاقی مدد کے حصول کے طریقوں کی راہنمائی کر کے ان کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں، جو اپنے گھر کھو چکے ہیں ۔ پادری کہتے ہیں کہ ہم ایسے بہت سے سیاہ فام لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جو اس علاقے سے غالباً کہیں اور منتقل ہو جائیں گے کیوں کہ الٹا ڈینا میں تعمیر نو ان کے لیے بہت مہنگا ہو گا ۔

کیلی فورنیا میں آتشزدگی کے متاثری ایک ریلیف مرکز میں ، فوٹو اے ایف پی 12 جنوری 2025

کیلی فورنیا میں آتشزدگی کے متاثری ایک ریلیف مرکز میں ، فوٹو اے ایف پی 12 جنوری 2025

32 سالہ فوٹوگرافر ، ڈینیالا ڈاؤسن جو اپنے اسٹوڈیو اپارٹمنٹ کا 2200 ڈالر کرایہ ادا کرنے کے لیے دو ملازمتیں کر رہی تھیں ،اپنی کار اور اپنی بلی لولا کے ساتھ جنگلات کی آگ سے فرار ہوئی تھیں۔ وہ اپنی تقریباً ہر چیز کھو چکی ہیں جن میں ہزاروں ڈالر کے فوٹو گرافی کا سازو سامان ی بھشامل تھا۔

ان کے پاس کرائے کے مکان کی انشورنس نہیں ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اب اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں ، کاش میرے پاس یہ انشورنس ہوتی ۔ ڈاؤسن ایریزونا واپس جانے کا سوچ رہی ہیں جہاں وہ اس سے قبل رہتی تھیں لیکن وہ ممکنہ طور پر الٹا ڈینا واپس نہیں آسکیں گی ۔

اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے