اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما و سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تمام جماعتوں سے رابطہ کررہے ہیں، اس وقت ملک میں عدالتیں اپاہج ہورہی ہیں، وکلا اور بارز سے پوچھتا ہوں کیا ضمیر نہیں جاگ رہا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنے آئینی حقوق کےلئے کھڑی ہو جائے۔ 1973ءکا آئین پاکستان کے لیے اہم کارنامہ تھا، 26ویں آئینی ترمیم نے آئین کو تباہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا مزدور کسان اور سیاسی قیادت کو اکٹھے کرنے جا رہے ہیں۔ جو اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں چل رہا ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر پراکسی وار شروع ہو گئی تو خدانخواستہ کہاں جائیں گے؟
سینئر سیاستدان مصطفی نواز کھوکھر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک آئین و قانون کی حکمرانی سے ہی چلے گا، 1973کا آئین پاکستان کے لیے اہم کارنامہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے رہی سہی کسر بھی نکال دی گئی ہے، ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات بھی ایگزیکٹو کو دے دئیے گئے۔
مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ ملک کو مزید سیاسی بحران سے بچانے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو اپنے ایجنڈے سے نکل کر آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سالوں میں ہم نے صرف سیاسی شکار دیکھا ہے، موجود حکومت نے بحران کو بڑھانے میں کندھا استعمال کیا۔ اگلے ہفتے ایجنڈا طے کرنے کے لیے مشاورتی اجلاس ہوگا جس میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے کہاکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہم سب کا ایجنڈا ہے اور اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں کا جلد اتفاق ہوجائےگا۔ ملک میں قانون کا بول بالا ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دریائے سندھ کے سیدھے ہاتھ افراتفری ہے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات سنگین ہو چکے ہیں، مہنگائی اور غربت عروج پر پہنچ چکی ہے، ملک سے 14 ارب ڈالر باہر جاچکے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ پاکستان ایک بار ٹوٹ چکا، اگر توجہ نہ دی گئی تو کوئی سانحہ ہوسکتا ہے۔ پاکستان سیاستدانوں اور عوام نے مل کر بنایا تھا۔

