English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بینچز اختیارات کیس: بادی النظر میں ججز کمیٹی نےجوڈیشل آرڈر نظر انداز کیا، جسٹس منصور

approved

اسلام آباد: بینچز کے اختیارات سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیا۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے بینچز کے اختیارات کے حوالے سے کیس کی سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی۔ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کے لیے کیس واپس لینا ممکن تھا؟ اور کیا انتظامی حکم کو عدالتی حکم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ اس پر عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ انتظامی حکم عدالتی حکم کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ ہمارے سامنے یہ اہم سوال ہے کہ کیا ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیا؟ اگر ایسا ہوا تو کیا معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے؟ اس سوال پر وکیل حامد خان نے معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی۔

جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اس معاملے میں بظاہر کچھ کنفیوژن موجود ہے۔ ماضی میں سپریم کورٹ خود بینچز تشکیل دیتی تھی، لیکن اب بعض اختیارات ختم کیے جا چکے ہیں، جس سے 26 ویں آئینی ترمیم کا سوال سامنے آتا ہے۔

اس پر جسٹس منصور نے سوال کیا کہ کیا دنیا کے کسی بھی ملک میں عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو نے بینچز تشکیل دیے ہیں؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ ایسا کہیں نہیں ہوتا۔

جسٹس منصور نے کہا کہ آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے گا، جس پر جسٹس عقیل نے سوال کیا کہ کیا یہ اوورلیپنگ نہیں ہے؟ 

حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ دیگر عدالتوں کے دائرہ اختیار کا تعین کر سکتی ہے، لیکن سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

وکیل حامد خان نے یہ بھی کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز کو مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ 

جس پر جسٹس منصور نے سوال کیا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کی پیروی نہیں کرتی تو پھر کیا ہوگا؟ انہوں نے راجہ عامر کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بھی فل کورٹ تشکیل دیا گیا تھا۔

جسٹس منصور نے مزید سوال کیا کہ آیا آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے؟ اور کیا وہ جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کر سکتی ہے؟ 

حامد خان نے کہا کہ ایسی صورتحال نہیں ہونی چاہیے جہاں کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کرے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ اپنے جواب میں ایڈیشنل رجسٹرار نے عدالت سے استدعا کی کہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا جائے، کیونکہ انہوں نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی اور بینچ کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس پروسیجر کمیٹی کو بھیج دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے