English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طیارے اور ہیلی کاپٹر میں تصادم: کب کیا ہوا؟

ویب ڈیسک —امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے قریب بدھ کی رات ایک مسافر طیارہ فوجی ہیلی کاپٹر سے ٹکرا کر دریا میں گر گیا ہے۔ امدادی کارکن کئی گھنٹوں سے سرد پانی میں ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

طیارہ امیریکن ایئرلائنز کی ذیلی کمپنی پی ایس اے ایئرلائنز کا تھا۔ یہ پرواز امریکی ریاست کنساس کے شہر وچیٹا سے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی آ رہی تھی۔

طیارہ کینیڈین ساختہ ’بمبارڈیئر سی آر جے – 701‘ تھا جو 2004 میں بنایا گیا تھا۔ دو انجن والے اس طیارے میں 70 مسافروں کی گنجائش تھی۔ حادثے کے وقت اس میں 60 مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔

جہاز سے ٹکرانے والا امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز پر تھا جو واشنگٹن ڈی سی سے متصل ریاست ورجینیا سے اڑا تھا۔ حکام کے مطابق اس میں تین فوجی اہلکار موجود تھے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق رات نو بجے کے قریب امیریکن ایئرلائنز کی فلائٹ 5342 واشنگٹن ڈی سی کے قریب رونلڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والی تھی۔ طیارہ جب رن وے سے صرف 2400 فٹ دور تھا جب ایک فوجی ہیلی کاپٹر سے اس کا تصادم ہوا۔

طیارہ صرف 400 فٹ بلندی پر تھا اور اس کی رفتار 140 میل یعنی 225 کلو میٹر فی گھنٹہ تک تھی۔ ٹکرانے کے بعد جہاز اور ہیلی کاپٹر دونوں ایئرپورٹ کے بالکل ساتھ گزرنے والے دریائے پوٹومک میں گر گئے۔

حادثے کا مقام وائٹ ہاؤس اور کیپٹل ہل کی عمارت سے تقریباً پانچ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دریا میں ہیلی کاپٹر الٹا ہوا مل گیا ہے جب کہ طیارہ بھی تباہ حال ہے۔

حادثے میں ابھی تک حکام کی جانب سے کسی جانی نقصان یا بچنے والوں کی کوئی تعداد نہیں بتائی گئی۔ تاہم امریکی میڈیا مختلف ذرائع سے متعدد ہلاکتوں کی اطلاع دے رہا ہے۔





please wait



No media source currently available

ریگن ایئرپورٹ کی جاری کردہ معلومات کے مطابق حادثے کے وقت مطلع صاف تھا اور حد نگاہ تقریباً 10 میل تھی۔

واضح رہے کہ یہ حادثہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن سمیت امریکہ کے مختلف علاقوں میں شدید سردی ہے۔

جہاز اور ہیلی کاپٹر دونوں دریا میں گرے ہیں جس کا پانی تقریباً نقطۂ انجماد پر ہے۔ امدادی کارکنان کو موسم کی شدت کی وجہ سے بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اس رپورٹ کے لیے بعض معلومات خبر رساں ادارے ’ ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے