کراچی ( رپورٹ:منیر عقیل انصاری) قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں زمینوں کے غیر قانونی الاٹمنٹس کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کردیا ہے۔
ریفرنس میں ملک ریاض،سابق وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن جاوید حنیف، سابق ڈی جی ایم ڈی اے، سابق ڈپٹی کمشنر ملیر قاضی جان محمد سمیت 33 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 25 فروری کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے ریفرنس سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے۔
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کی ملی بھگت سے بحریہ ٹاو ¿ن کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا، ڈی جی ایم ڈی اے نے ملیر ڈویلپمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 43 دیہہ کے سروے کی شروعات کیریفرنس کے مطابق ملزمان نے ملی بھگت کرکے 17 ہزار 6 سو ایکڑ سرکاری زمین غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاو ¿ن کو منتقل کی ہے۔
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے قومی خزانے کو 708 ارب 8 کروڑ 80 لاکھ83 ہزار سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو (نیب) نے دھوکہ دہی اور خورد برد کی شکایات سے متعلق بحریہ ٹاو ¿ن انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔

