حیدر آباد:بھارتی ریاست تلنگانہ کے شہر سکندرآباد میں 2 جوان بہنیں غربت اور شدید مالی مسائل کے باعث اپنی والدہ کی آخری رسومات ادا نہ کر سکیں اور تقریباً ایک ہفتے تک ان کی لاش گھر میں رکھنے پر مجبور رہیں۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق واراسی گوڈا کی رہائشی ایک خاتون گزشتہ ہفتے بیماری کے باعث وفات پا گئیں، مگر ان کی بیٹیاں 25 سالہ راولیکا (ساڑھی کی دکان پر کام کرنے والی) اور 22 سالہ اشویتا (ایونٹ پلانر) اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہ تھیں۔
دونوں بہنوں کے والد 2020 میں خاندانی تنازعات کے بعد انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور اس کے بعد کبھی مالی مدد فراہم نہیں کی۔ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد دونوں بہنیں شدید ذہنی و مالی دباؤ کا شکار رہیں اور مجبوراً اپنی والدہ کی لاش کو الگ کمرے میں رکھا جب کہ خود دوسرے کمرے میں رہتی رہیں۔
ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد پڑوسیوں نے گھر سے اٹھنے والی بدبو محسوس کر کے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بہنوں نے ایک مقامی کمیونٹی ہال انتظامیہ سے مدد کی اپیل کی تھی، جس پر ہال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ اس کے علاوہ ان دونوں نے اپنے رشتے داروں سے بھی مدد مانگی مگر کسی نے مثبت جواب نہیں دیا۔

