
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ نے جاسوسی کے الزام پر روسی سفارتکار کو ملک بدر کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ کارروائی روس کی جانب سے برطانوی سفارت کار کی بے دخلی کے جواب میں کی گئی۔ روس نے برطانوی سفارت کار کو جاسوسی کے الزام پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کی جانب سے مزید کارروائی کو اشتعال انگیزی سمجھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ اگر روس ہمارے خلاف کارروائی کرے گا تو ہم بھی جواب دیں گے۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیر دفاع سیبسٹین لی کورنو نے روس کے خلاف فضائی دفاع میں مدد کے لیے یوکرین کو میراج 2000 لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ فراہم کردی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ فرانس میں یوکرین کے پائلٹوں کو تربیت دینے کے بعد طیارے یوکرین پہنچ گئے ہیں،تاہم اپنے بیان میں انہوں نے طیاروں کی تعداد نہیں بتائی۔ لی کورنو کا کہنا تھا کہ فرانسیسی طیارے یوکرین کی فضائی حدود کے دفاع میں حصہ لیں گے۔ اس سے قبل مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ فرانسیسی فضائیہ کے 26 میں سے 6میراج طیارے یوکرین منتقل کیے جانے والے ہیں۔ صدر عمانویل ماکروں نے جون 2024 ء میں فرانس کے جنگی طیارے بھیجنے کے ارادے کا اعلان کیا تھا،جس کے بعد یوکرین کے پائلٹ اور تکنیکی ماہرین فرانس میں اس طیارے کی تربیت لے رہے تھے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یوکرین کو دیے جانے والے سامان میں فضائی حملے کرنے کے لیے فضا سے زمین پرمار کرنے والا جنگی سازوسامان اور روسی جیمنگ کے خلاف مزاحمت کے لیے الیکٹرانک وارفیئر ڈیفنس شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے ساتھ ہی یوکرین میں فروری 2022 ء سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات شروع کرنے کے امکانات کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ ٹرمپ نے کئی مواقع پر 24 گھنٹوں میں امن بحال کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔
