English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے جا رہا: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری

القمر

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ کسی نئے آپریشن کا آغاز کرنے کی بات ہی نہیں ہوئی، کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے جا رہا۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پھر اسی طرح پاکستان کی سیکیورٹی کے معاملے پر ہونے والی اس طرح کی بڑی میٹنگ سے باہر ہوئی، عمران خان اپنی حکومت میں بھی اپوزیشن کے ساتھ سیکیورٹی کے اجلاس میں، وہ بھارت نے حملہ کیا ہو یا کوئی اور بڑا مسئلہ ہو، بیٹھنے سے انکاری رہے۔یہ بات انہوں نےاسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےکہی۔

ان کا کہنا تھاکہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں وہ بیج بویا کہ جس کی وجہ سے آج ہر روز شہادتیں ہمارے نصیب میں لکھی گئی ہیں، نہ وہ پالیسی بنتی نہ ان جیٹ بلیک دہشت گردوں کو پاکستان میں بسایا جاتا، جو دنیا بھر کو مطلوب تھے، اسی طرح آج کے دن کے یہ حالات بھی پیدا نہیں ہوتے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اسی اجلاس کے بارے میں کچھ بیانات دے رہے ہیں، اور کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس اعلامیے میں جو پاکستان کی تمام پارٹیوں کی قیادت نے متفقہ طور پر دیا، جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود موجود تھے، اس کی توثیق کی تھی۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے، میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ کسی نئے آپریشن کا آغاز کرنے کی بات ہی نہیں ہوئی، کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے جارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے آپریشن کا شوشہ صرف کنفیوژن پیدا کرنے کے لیے چھوڑا جا رہا ہے، بڑی وضاحت کے ساتھ قرارداد میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کو چلایا جائے گا، اور اس پر من و عن عمل کیا جائے، کسی نئے آپریشن کی بات نہیں ہوئی۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات ہوں اور پاکستان کی حکومتیں اور پاکستان کا کوئی ادارہ اس بات سے ہچکچائے کہ کارروائی نہیں کرنا چاہتا تو وہ کس کے ساتھ کھڑا ہے، اس کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو کہتا ہوں کہ اگر وہ دہشت گردوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تو ان کے دوست بن کر ان کے ساتھ بھی کھڑے نہ ہوں۔

طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے ایک ہفتے بعد جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت کی ہے اور جس بیان میں کی ہے اور اس میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی تھی۔ خفیہ ایجنسیز اور سیکیورٹی فورسز انفارمیشن دیتی ہیں، مگر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے ادارے اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ اس دی ہوئی انفارمیشن پر عمل کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے