آج کل بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کا مقبرہ مسمار کرنے کی مہم تیز ہوگئی ہے۔ عالمگیر کی زندگی مراٹھوں سے جنگ کرتے گزری۔ مراٹھوں کے دل میں مغل شہنشاہوں سے غیر معمولی نفرت پائی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اُن کے سب سے بڑے جنگجو لیڈر چھترپتی شیواجی کی زندگی بھی مغلوں سے لڑتے گزری تھی۔
یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ چھترپتی شیواجی کے بیٹے شمبھا جی کو مغلوں نے گرفتار کرنے کے بعد سزائے موت دے دی تھی۔ اُس کا بیٹا شاہو اول مغلوں کی قید میں رہا اور جب نوجوانی میں اُسے مغلوں نے آزاد کیا تب اُس نے اپنے والد کے قتل کو بھول کر عالمگیر کی قبر پر حاضری دی تھی۔ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق تاریخ میں ایسا بہت کچھ درج ہے جسے بالعموم چھپایا جاتا ہے۔ لوگ تاریخ سے اپنی مرضی کی چیزیں منتخب کرکے منظرِعام پر لاتے ہیں اور اپنا اپنا اُلو سیدھا کرنے کی ترجیح دیتے ہیں۔
اورنگ زیب عالمگیر ساتواں مغل شہنشاہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ شریعت کا پابند تھا اور بالعموم ایسے فیصلے کرتا تھا جو شریعت کی رُو سے درست ہوں۔ اُس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ ہندوؤں کا کٹر دشمن تھا اور مندر گراکر وہاں مسجد بنوادیا کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر جانب دار حقیقت پسند ہندو تاریخ دانوں کے نزدیک وہ ایک ایسا شہنشاہ تھا جس نے اپنی رعایا کا خیال رکھا اور ہندوؤں سے کبھی کوئی ناانصافی نہیں ہونے دی۔ جنگیں ہندو راجاؤں سے ہوتی تھیں، ہندوؤں سے نہیں۔ خود مراٹھوں کی فوج میں نفری سے لے کر بڑے عہدوں تک مسلمان ہوتے تھے۔
معروف ہندو دانشور ڈاکٹر رام پُنیانی انتہا پسند ہندوؤں کا پروپیگنڈا غلط ثابت کرنے کے لیے میدان میں رہے ہیں۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ لڑائیاں ہندو اور مسلم راجاؤں کے درمیان ہوتی تھیں، ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نہیں۔ یہی سبب ہے کہ مسلمان بادشاہوں کی فوج میں ہندو اور ہندو راجاؤں کی فوج میں مسلمان لڑا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ڈھائی تین سو سال تک چلا۔
