English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بالنیدرا شاہ، جنہیں نیپالی نوجوان اپنا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں

القمر

کٹھمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔

کل سے جاری ان پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ وزیر اعظم کے استعفے کے باوجود مظاہرین اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں اور مختلف سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کے گھروں پر حملوں اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

کے پی شرما اولی کے مستعفی ہونے کے بعد اب سب کی نظریں اس سوال پر ہیں کہ نیپال کی اگلی وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر کون بیٹھے گا؟ اس حوالے سے بالیندرا شاہ کا نام نمایاں ہے، جنہیں ’جنریشن زیڈ‘ کی نمائندگی کرنے والی شخصیت سمجھا جا رہا ہے۔

بالیندرا شاہ کون ہیں؟

بالیندرا شاہ، جو عام طور پر ’بالن شاہ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، کٹھمنڈو کے 15ویں میئر ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر اور شوقیہ گلوکار ہیں۔ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔

میئر کے طور پر اپنے دور میں انہوں نے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں سڑکوں کی صفائی، پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ کو محفوظ بنانا، سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا اور ٹیکس چوری میں ملوث نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں پہچان کرپشن کے خلاف سخت رویہ اور شفاف ساکھ ہے۔

2023 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے انہیں 100 ابھرتی ہوئی عالمی شخصیات میں شمار کیا، جبکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی ان کی قیادت کو سراہا۔ نوجوانوں میں ان کی مقبولیت بے حد زیادہ ہے اور انہیں نیپالی سیاست میں نئی امید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بالن شاہ کا جنریشن زیڈ سے متعلق موقف

حال ہی میں بالن شاہ نے جنریشن زیڈ کی قیادت میں ہونے والے کرپشن اور سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ فیس بک پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ذاتی طور پر مظاہروں میں شریک نہیں ہو سکتے کیونکہ منتظمین نے عمر کی حد 28 سال مقرر کر رکھی ہے، لیکن وہ اس تحریک کے ساتھ مکمل ہمدردی رکھتے ہیں۔

البتہ، جب مظاہرے پرتشدد ہوگئے اور وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا تو انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ پُرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے