فرانس میں اسلاموفوبیا کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔
پیرس کے علاقے میں منگل کے روز متعدد مساجد کے باہر خنزیر کے سر پھینکے گئے، جس کے بعد فرانسیسی پولیس نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شہر کے پولیس چیف لارینٹ نونیز نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان نفرت انگیز حرکات کے ذمہ داروں کو تلاش کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
تحقیقات سے باخبر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ خنزیر کے سر پیرس کی عوامی سڑکوں اور شہر کے نواحی دو مقامات پر پائے گئے۔
وزیرِ داخلہ برونو ریٹیلیو نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں “اشتعال انگیز” اور “ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، “میں چاہتا ہوں کہ ہمارے مسلمان شہری اپنے مذہب پر سکون کے ساتھ عمل کر سکیں۔”
خیال رہے کہ یورپی یونین میں سب سے بڑی مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور امریکہ کے بعد سب سے بڑی یہودی آبادی بھی فرانس میں آباد ہے۔
یورپی یونین کی ایجنسی برائے بنیادی حقوق کے مطابق، اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورپی ممالک میں “مسلم دشمنی” اور “یہود دشمنی” کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
