ہانگ کانگ کے مصروف علاقے تائی پو میں واقع رہائشی کمپلیکس وانگ فُک کورٹ میں بھڑکنے والی ہولناک آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 94 ہو گئی جب کہ سیکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اب بھی ریسکیو ٹیمیں ملبے کے اندر دبے ممکنہ زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہانگ کانگ کی گزشتہ 7 دہائیوں میں پیش آنے والی بدترین آتشزدگی ہے جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 94 تک پہنچ چکی ہے اور اموات میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
متاثرہ عمارتیں حال ہی میں بڑے پیمانے پر مرمتی کام اور تعمیراتی تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہی تھیں۔ پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد شبہ ظاہر کیا ہے کہ ٹاورز کی بیرونی سمت نصب تعمیراتی مواد نے شعلوں کو پھیلنے میں تیز رفتاری فراہم کی، جس کے نتیجے میں 8 میں سے 7 بلاکس چند لمحوں میں آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ اسی وجہ سے رہائشیوں کو محفوظ راستے تلاش کرنے میں شدید دشواری پیش آئی اور کئی افراد دھویں اور آگ کی شدت کی وجہ سے باہر نکلنے سے قاصر رہے۔
حکام نے غفلت اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں 3 تعمیراتی کمپنیوں کے اعلیٰ ایگزیکٹوز کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے یقین دلایا ہے کہ واقعے کی مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔
مقامی فائر سروس کا کہنا ہے کہ آگ چند ہی گھنٹوں میں مختلف منزلوں تک پھیل گئی تھی، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن انتہائی چیلنجنگ ہوگیا۔ شدید حرارت اور گرتے ہوئے ملبے نے فائر فائٹرز کی پیش قدمی کو مسلسل خطرات سے دوچار رکھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران بہادری سے اپنی ڈیوٹی انجام دینے والے 37 سالہ فائر فائٹر ہو وائی ہو آگ بجھاتے ہوئے لاپتا ہو گئے اور کئی گھنٹوں بعد انہیں ملبے کے نیچے سے بے ہوش حالت میں نکالا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 55 افراد کو زندہ نکالا جا چکا ہے جب کہ اسپتالوں میں داخل زخمیوں کی تعداد 76 ہے جن میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب 270 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ملبے کے نیچے پھنسے ہوسکتے ہیں۔
