پشاور:وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ میرے لیے منصب سے زیادہ نظریہ اہم ہے، کسی دبائو یا نقصان کے خوف سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت انصاف یوتھ ونگ کے صوبائی، ریجنل اور ضلعی عہدیداران کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور سابق معاون خصوصی شفقت آیاز سمیت دیگر عہدیداران شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے انصاف یوتھ ونگ کو ہر لمحہ تیار رہنے کی ہدایت دی۔ انشاءاللہ جب بھی خان صاحب کال دیں گے، ہمیں پوری یکجہتی اور تیاری کے ساتھ میدان میں نکلیں گے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اپنے قائد سے ملاقات کے لیے پنجاب اور وفاقی حکومتوں کو متعدد مراسلے لکھے گئے، وزیر اعظم سے رابطہ کیا گیا اور چیف جسٹس کو بھی خط ارسال کیا، مگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے احکامات کو نظرانداز کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کا وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود وہ رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہے لیکن کسی ادارے نے دو منٹ کی ملاقات تک کی ہمت نہ دکھائی۔ عمران خان نے مذاکرات اور احتجاج دونوں کا اختیار تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کو دے رکھا ہے، اس لیے تمام ذمہ داران اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ہر وقت تیار رہیں۔
میرے لیے منصب سے زیادہ نظریہ اہم ہے، اور وہ کسی دبائو یا نقصان کے خوف سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکمرانی کے دعوے کرنے والوں کے خلاف آئی ایم ایف نے خود چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔
موجودہ کارکردگی کا عمران خان دور کی گورننس سے موازنہ کیا جائے تو فرق واضح ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن صوبے کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
