بنگلادیش کی سابق وزیراعظم اور بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیا کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے جبکہ ڈاکٹرز نے ان کی حالت کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے مزید چوبیس گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق سابق وزیراعظم اس وقت ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں، جہاں انہیں 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کے باعث داخل کیا گیا تھا، خالدہ ضیا کے ذاتی معالج ڈاکٹر اے زیڈ ایم زاہد حسین نے بتایا کہ 80 سالہ رہنما مسلسل آئی سی یو میں ہیں اور گزشتہ تین دن سے ان کی حالت ایک ہی سطح پر ہے، مجموعی طبی کیفیت اب بھی انتہائی نازک ہے۔
ڈاکٹر زاہد حسین نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خالدہ ضیا کی زندگی کے لیے دعا کریں تاکہ وہ مسلسل جاری علاج برداشت کرتی رہیں اور ان کی حالت میں بہتری آسکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خالدہ ضیا دل، جگر، گردوں اور پھیپھڑوں کے مسائل سمیت ذیابیطس، گٹھیا اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں، ان کے دل میں پہلے سے پیس میکر نصب ہے اور وہ دل کی اسٹنٹنگ بھی کرا چکی ہیں۔
بی این پی کے وائس چیئرمین احمد اعظم خان نے بتایا کہ اگر اجازت ملی اور حالت کچھ بہتر ہوئی تو انہیں ایڈوانسڈ علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تیاری مکمل ہے اور ایک ایئر ایمبولینس standby پر موجود ہے۔
ان کے بڑے صاحبزادے طاہرہٰمان نے لندن سے جاری بیان میں قوم سے والدہ کی صحت کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے، اس مشکل وقت میں عوام کی محبت اور دعائیں خاندان کے لیے بہت حوصلے کا باعث ہیں۔
خیال رہےکہ سابق وزیراعظم کو 2018 میں کرپشن کیس میں سزا کے بعد قید کیا گیا تھا اور انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت نہیں دی گئی تھی، گزشتہ سال شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد انہیں رہائی ملی۔ خرابیٔ صحت کے باوجود خالدہ ضیا نے آئندہ سال فروری میں متوقع عام انتخابات میں اپنی جماعت کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
بنگلادیش کے عبوری رہنما محمد یونس نے بھی بیان میں کہا کہ موجودہ سیاسی عبوری دور میں خالدہ ضیا کی صحت ملک کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ قوم کے لیے بڑی سیاسی حوصلہ افزائی کا باعث ہیں۔
