آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگردور کیٹرین گنارسڈوٹر نے کہا ہے کہ ملک یوروسنگ 2026 میں حصہ لینے یا نہ لینے پر غور کرے گا کیونکہ یورپی گانوں کے مقابلے کے منتظمین (EBU) نے اسرائیل کو مقابلے میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق وزیر خارجہ نے برلن میں اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں غزہ کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئس لینڈ دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جنگ بندی کی ضرورت ہے اور انسانی امداد میں اضافہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ آئس لینڈ کی حکومت اور قومی براڈکاسٹر RUV اس معاملے کا جائزہ لیں گے، یہ آئس لینڈ میں حساس معاملہ ہے، ہم ہر پہلو سے غور کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے۔
RUV کے بورڈ کا اجلاس بدھ کو ہوگا جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آئس لینڈ اگلے سال یوروسنگ میں حصہ لے گا یا نہیں۔
اسرائیل کی شمولیت گزشتہ برسوں میں متنازع رہی ہے، کیونکہ غزہ میں جاری حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل کے حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔
یوروسنگ میں دنیا کے مختلف ملکوں کے گانے پیش کیے جاتے ہیں اور عوام اور ججز کے ووٹ کے ذریعے فاتح منتخب ہوتا ہے۔
