English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

این ایف سی ایوارڈ پر بڑا بریک تھرو، وفاق نے 8 کمیٹیاں قائم کر دیں

القمر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گیارہویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کی تیاری کے عمل کو تیز کرتے ہوئے اہم مالی، آئینی اور انتظامی معاملات پر غور کے لیے 8 مختلف کمیٹیاں قائم کر دی ہیں، جسے مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مالی ماہرین اور صوبائی حکام کی جانب سے یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آیا صوبوں کو آئین کے مطابق ان کا مکمل مالی حق مل رہا ہے یا نہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق معروف ماہرِ معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا کے حالیہ دعوے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے، جن کے مطابق آئینی طور پر قابل تقسیم پول میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد ہونا چاہیے، تاہم گزشتہ مالی سال میں پٹرولیم لیوی اور فاضل کیش ایڈجسٹمنٹ کے بعد صوبوں کو عملی طور پر صرف 45.8 فیصد وسائل ہی مل سکے۔

اُن کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی کو قابل تقسیم پول کا حصہ نہ بنانا صوبوں کے مالی حصے میں واضح کمی کا باعث بن رہا ہے، جس کے اثرات صوبائی بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق مختلف حساس امور کو الگ الگ ورکنگ گروپس کے سپرد کیا ہے تاکہ ہر پہلو پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایک ورکنگ گروپ وزیر خزانہ پنجاب کی قیادت میں قائم کیا گیا ہے جو صوبوں کے دائرہ اختیار میں آنے والے امور پر وفاقی اخراجات کی شیئرنگ سے متعلق سفارشات مرتب کرے گا۔ اسی طرح وزیر خزانہ بلوچستان کی سربراہی میں ایک گروپ مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے تناسب کا جائزہ لے گا، جبکہ ایک علیحدہ ورکنگ گروپ قومی قرضوں کی ساخت، نوعیت اور ان کے استعمال پر غور کرے گا۔

ذرائع کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری کے لیے تجاویز دینے کی ذمہ داری وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کی سربراہی میں قائم گروپ کو دی گئی ہے، جب کہ وزیر خزانہ سندھ کی قیادت میں ایک ورکنگ گروپ وسائل کی صوبوں کو براہ راست منتقلی کے طریقہ کار پر سفارشات تیار کرے گا۔

اس کے علاوہ سابق فاٹا کے انضمام اور این ایف سی میں اس کے حصے سے متعلق معاملات پر بھی ایک الگ ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے تاکہ اس حساس معاملے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قائم ورکنگ گروپ کو قابل تقسیم پول کی ساخت کا جائزہ لینے اور بعض ٹیکسوں کو پول میں شامل یا خارج کرنے سے متعلق تجاویز دینے کا اہم ٹاسک سونپا گیا ہے۔

ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کسٹم ڈیوٹی کو قابل تقسیم پول سے نکالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، جس پر صوبوں کی جانب سے تحفظات سامنے آ سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ این ایف سی سے متعلق حالیہ مشاورت کے دوران خیبرپختونخوا کے مشیر مزمل اسلم نے صوبے کے شیئر میں آبادی میں اضافے اور صوبائی حدود کی بنیاد پر چار فیصد تک اضافے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وفاقی بجٹ خسارے کی بنیادی وجہ غلط پالیسی فیصلوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے شعبے میں ناقص فیصلوں کے باعث گیس اور بجلی کے شعبے میں پچاس کھرب روپے کے قریب گردشی قرضہ پیدا ہوا، جبکہ چینی پاور پلانٹس کو اکاون کھرب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جن کا بوجھ بالآخر قومی خزانے اور صوبوں پر پڑا۔

این ایف سی کے حالیہ اجلاسوں میں اختلافی نکات بھی کھل کر سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے اخراجات کی شیئرنگ کے لیے کسی ورکنگ گروپ کے قیام کو این ایف سی کے مینڈیٹ سے متصادم قرار دیا تھا، جس کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سندھ حکومت اس گروپ کے قیام کی قانونی حیثیت پر وضاحت طلب کر سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے