اسلام آباد: مرکزی رہنماءپیپلز پارٹی ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ اب سیاستدان کم ازکم یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا، پہلی بار احتساب کا عمل خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، یہ فیلڈمارشل عاصم منیر ہی کرسکتے تھے۔
انہوں نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں مداخلت تو بالکل رہی ہے، موجودہ فوجی لیڈرشپ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ پہلی بار اتنی اہم سیٹ کے افسر کو سزا دی، اور احتساب کی مثال قائم کی، ہم نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔یہ اچھی روایات ہیں، نیک شگون ہے۔
فیض حمید کے ساتھ گٹھ جوڑ میں جو لوگ بھی شریک ہیں سب سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے، جتنا شفافیت سے کریں گے اتنا بہتر ہوگا، مثال کے طور پر مجھے یاد ہے کہ بریگیڈیئر عادل پنجاب کے سیکرٹری کمانڈر تھے، اسی طرح بریگیڈیئر مظفر رانجھا بھی رہے ہیں، یہ 2013 کے انتخابات کی انجینئرنگ میں ملوث رہے،جسٹس ثاقب نثار اور افتخار چودھری ، یا الیکشن کمیشن کے لوگ ہوں، ان سب کا شفاف احتساب ہونا چاہیے۔
احتساب موجودہ آرمی چیف عاصم منیر ہی کرسکتے ہیں اور کوئی نہیں کرسکتا۔احتساب کا ہونا ریاست، جمہوریت اور ریاستی اداروں کے لیے اچھی بات ہے۔
اب سیاستدان کم ازکم یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوتا، یہ احتساب ہم نے پہلی بار خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، ایسا احتساب فیلڈمارشل عاصم منیر ہی کرسکتے تھے،جیسے اب جرنیلوں کا احتساب ہورہا ہے تو سب کا ہونا چاہیے۔
