پشاور: خیبرپختونخوا بار کونسل نے سول ججز کی تعیناتی کے نئے طریقہ کار کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے صوبہ بھر میں عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے، بار کونسل کے اعلان کے بعد صوبے کے مختلف اضلاع میں وکلا نے عدالتوں میں پیشی سے گریز کیا، جس کے باعث عدالتی امور متاثر ہوئے۔
خیبرپختونخوا بار کونسل کے مطابق یہ احتجاج محکمہ قانون خیبرپختونخوا کے اس فیصلے کے خلاف کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سول ججز کی تعیناتی کے لیے وکالت کے دو سالہ تجربے کی شرط ختم کر دی گئی ہے، اس فیصلے کے بعد آئندہ بغیر کسی عملی قانونی تجربے کے افراد کو بھی سول جج مقرر کیا جا سکے گا جو عدالتی نظام کے معیار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بار کونسل نے اپنے بیان میں اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی اور وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی منصب کے لیے عملی تجربہ ناگزیر ہوتا ہے کیونکہ جج کے فرائض نہایت حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کا براہ راست تعلق عوام کو انصاف کی فراہمی سے ہے، تجربے کے بغیر تقرریاں نہ صرف عدالتی فیصلوں کے معیار کو متاثر کریں گی بلکہ انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو بھی مجروح کریں گی۔
خیبرپختونخوا بار کونسل نے صوبے بھر کے وکلا کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ احتجاج کے طور پر عدالتی کارروائیوں میں حصہ نہ لیں، بار کونسل نے محکمہ قانون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سول ججز کی تعیناتی کے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرے اور وکلا برادری کو اعتماد میں لے کر کوئی بھی اصلاحات متعارف کرائے۔
بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے وکلا کے تحفظات کو نظرانداز کیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھی جائے گی، وہ عدلیہ کے معیار اور آزادی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔
