نیویارک: اقوام متحدہ نے طالبان کے اس دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سلامتی کونسل کو پیش کی گئی تازہ رپورٹ میں طالبان کے مؤقف کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ خطے کے ہمسایہ ممالک تیزی سے افغانستان کو علاقائی عدم استحکام کا مرکز سمجھنے لگے ہیں، جو مستقبل میں سنگین سفارتی اور سیکورٹی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 16ویں رپورٹ، جو طالبان کے اقتدار میں آنے کے چار سال سے زائد عرصے بعد مرتب کی گئی، میں کہا گیا ہے کہ ڈی فیکٹو افغان حکام مسلسل اس حقیقت سے انکار کر رہے ہیں کہ ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور سرحد پار کارروائیاں ہو رہی ہیں، تاہم عالمی ادارے کے مطابق زمینی حقائق اس دعوے کے بالکل برعکس ہیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ طالبان کے یہ بیانات قابلِ اعتماد نہیں اور عالمی برادری میں ان پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد رکن ممالک نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ افغانستان میں اس وقت داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ، جماعت انصاراللہ اور دیگر شدت پسند گروہ سرگرم ہیں۔ ان میں سے بعض گروہوں نے افغان سرزمین کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور عملی تیاری کے لیے استعمال کیا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے اور افغانستان کے کئی صوبوں میں اس کی مستقل موجودگی پائی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کی سرگرمیاں نسبتاً خفیہ رکھی جاتی ہیں، مگر یو این مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق القاعدہ کو ایسا ماحول میسر ہے جو اسے تربیت، تنظیم نو اور روابط مضبوط بنانے کا موقع دیتا ہے۔
دوسری جانب داعش خراسان کو طالبان کا بڑا حریف قرار دیا گیا ہے، جس کے خلاف کارروائیوں کے باوجود یہ گروہ افغانستان اور بیرونِ ملک حملے کرنے کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو قرار دیا گیا ہے، جسے طالبان کے اندر موجود بعض عناصر کی حمایت حاصل ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق ٹی ٹی پی محفوظ افغان ٹھکانوں سے پاکستان میں ہائی پروفائل حملے کر رہی ہے، جس کے باعث اسلام آباد اور کابل کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکام ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے توجہ ہٹاتے رہتے ہیں، جبکہ طالبان کے اندر اس گروہ کے لیے ہمدردی اور وفاداری موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور بعض اندازوں کے مطابق رواں سال اب تک 600 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں میں گاڑیوں میں نصب خودکش دھماکے اور پیدل خودکش حملہ آوروں کی منظم ٹیمیں شامل رہی ہیں، جبکہ یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی بتائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے طالبان پر ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 ہزار جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا آ رہا ہے، جو خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا جیسے صوبوں میں موجود ہیں، جبکہ گروہ کا سربراہ نور ولی محسود مبینہ طور پر کابل میں قیام پذیر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار جھڑپیں ہوئیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور دوطرفہ تجارت شدید متاثر ہوئی، یہاں تک کہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغان معیشت کو یومیہ لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
