English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمن پارلیمنٹ نے اسرائیلی میزائل سسٹم کیلیے اربوں ڈالر کے معاہدے کی منظوری دیدی

القمر

برلن: جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچاتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایرو تھری میزائل دفاعی نظام کے معاہدے میں باضابطہ طور پر مزید توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق جرمن پارلیمنٹ کی جانب سے اس توسیعی معاہدے کے لیے 3.1 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد اب اس دفاعی ڈیل کی مجموعی مالیت تقریباً 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو اسرائیل کی تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی برآمدی معاہدوں میں شمار ہوتی ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ نیا معاہدہ دراصل دو سال قبل طے پانے والے اس ابتدائی دفاعی معاہدے کا تسلسل ہے، جس کی مالیت 3.5 ارب ڈالر تھی اور جس کے تحت جرمنی کو ایرو تھری میزائل دفاعی نظام فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ نئی توسیع نہ صرف معاہدے کی مالی وسعت کو بڑھاتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی تعاون کو بھی مزید مضبوط بناتی ہے، جس سے مستقبل میں مشترکہ سیکورٹی منصوبوں کی راہ ہموار ہو گی۔

ایرو تھری میزائل دفاعی نظام کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ایک مؤثر فضائی دفاعی نظام سمجھا جاتا ہے، جو طویل فاصلے سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام خاص طور پر ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو روایتی دفاعی ڈھانچوں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ جرمنی کی جانب سے اس سسٹم کے حصول کو یورپ میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خدشات، روس یوکرین جنگ کے اثرات اور مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے بعد جرمنی اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی شراکت دار بن گیا ہے۔ اگرچہ امریکا اب بھی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم جرمنی اس فہرست میں دوسرے نمبر پر آ چکا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت سے اسرائیل کی دفاعی صنعت کو معاشی طور پر بھی بڑا سہارا ملے گا جب کہ جرمنی کو جدید دفاعی صلاحیتوں کے حصول میں نمایاں فائدہ حاصل ہو گا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جرمن حکومت نے حال ہی میں اسرائیل کو اسلحے کی برآمدات پر عائد بعض پابندیاں ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ جرمن حکام کے مطابق یہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی، خطے میں سفارتی پیش رفت اور انسانی صورتحال میں بہتری کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اسلحے کی برآمدات میں اضافے سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مزید حساس ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے