غزہ میں جنگ کے بعد مجوزہ عالمی انتظامات کے حوالے سے امریکا کی کوششوں کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب آذربائیجان نے واضح طور پر امریکی سرپرستی میں قائم کی جانے والی انٹرنیشنل غزہ اسٹیبلائزیشن فورس کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی فورس کے قیام پر پہلے سے موجود غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر اس منصوبے کی ساکھ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی حمایت سے قطر کے دارالحکومت دوحا میں ایک اہم کانفرنس منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد غزہ میں ممکنہ بین الاقوامی فورس کے خدوخال طے کرنا اور ابتدائی مشاورت کرنا تھا۔ آذربائیجان کو بھی اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم باکو حکومت نے نہ صرف اس کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا بلکہ بعد ازاں یہ مؤقف بھی واضح کر دیا کہ وہ اس نوعیت کے کسی امریکی منصوبے کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان نے ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے میں بھی کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، حالانکہ اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ آذربائیجان کی خارجہ پالیسی میں توازن اور خطے کی حساس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاکہ کسی نئے تنازع یا سفارتی دباؤ سے بچا جا سکے۔
دوحا کانفرنس میں آذربائیجان کے علاوہ بھی کئی ممالک نے شرکت سے انکار کیا، جس سے امریکی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ہارٹز کے مطابق تقریباً 15 ممالک ایسے تھے جنہوں نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، جن میں ترکمانستان، تاجکستان، بلجیم، رومانیہ، ایسٹونیا، جنوبی کوریا اور نیپال شامل ہیں۔ ان ممالک کی عدم شرکت نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ غزہ کے معاملے پر عالمی برادری میں کوئی واضح اتفاق رائے موجود نہیں۔
دوسری جانب کانفرنس میں شریک ممالک میں جرمنی، برطانیہ، فرانس، مراکش، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، مصر، سعودی عرب، قازقستان، ازبکستان، یونان، قبرص، یمن، بوسنیا اور ہرزیگووینا شامل تھے جب کہ جزوی طور پر تسلیم شدہ ریاست کوسوو نے بھی شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق ترکی کو اسرائیلی اعتراضات کی وجہ سے کانفرنس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا، جو اس عمل کی شفافیت اور غیرجانبداری پر مزید سوالات اٹھاتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ غزہ کے لیے تقریباً 10 ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک کثیر القومی فورس تشکیل دینے کی خواہاں ہے، جس کی قیادت ممکنہ طور پر ایک امریکی جنرل کرے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا اس مقصد کے لیے مختلف ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے، تاہم تاحال کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر فوج فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آذربائیجان سمیت متعدد ممالک کا انکار اس بات کی علامت ہے کہ غزہ کے مسئلے کا فوجی حل عالمی سطح پر قابلِ قبول نہیں اور امریکا کو اس معاملے میں شدید سفارتی مزاحمت کا سامنا ہے۔
