English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

طارق جہانگیری پنشن کے اہل بننے پر اگلے ماہ ریٹائر ہونے والے تھے، ذرائع کا دعویٰ

القمر

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈگری تنازع کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بطور جج تقرری کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور وزارتِ قانون و انصاف کو انہیں عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

یہ فیصلہ جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنایا جس کی سربراہی چیف جسٹس جسٹس سرفراز ڈوگر کر رہے تھے۔

باخبر ذرائع کے مطابق طارق محمود جہانگیری آئندہ ماہ کے اوائل میں ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ بعد از ریٹائرمنٹ پنشن کے فوائد حاصل کر سکیں۔ ان کی بطور جج پانچ سالہ مدت 31 دسمبر کو مکمل ہو رہی تھی، جس کے بعد وہ یکم جنوری 2026 سے پنشن کے اہل ہو جاتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد بار کے بعض ارکان چاہتے تھے کہ طارق محمود جہانگیری کم از کم پانچ سال کی لازمی سروس مکمل ہونے کے فوراً بعد ریٹائر ہوں تاکہ پنشن کے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اسی سلسلے میں بار ارکان نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے بھی رابطہ کیا تھا، جہاں انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ طارق جہانگیری یکم جنوری کو ریٹائر ہو جائیں گے۔

قواعد کے مطابق اگر کوئی جج پانچ سالہ سروس مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دے تو وہ پنشن کا حق دار نہیں ہوتا۔ ذرائع کے مطابق ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ طارق محمود جہانگیری نے 31 دسمبر کے بعد مؤثر ہونے والا (پوسٹ ڈیٹڈ) استعفیٰ وزیر قانون کو دے دیا تھا، تاہم اس حوالے سے نہ تو وزیر قانون اور نہ ہی طارق محمود جہانگیری نے تصدیق یا تردید کی۔

عدالت کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ طارق محمود جہانگیری جج کے طور پر تقرری کے اہل ہی نہیں تھے، اس لیے ان کی تعیناتی قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس فیصلے کے بعد ان کی ریٹائرمنٹ اور پنشن سے متعلق تمام امکانات بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے