اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کی سماعت کی۔
جو پی پی 116 فیصل آباد کے ضمنی انتخاب کے دوران بیلٹ پیپر پر مہر لگانے کی ویڈیو بنانے سے متعلق ہے۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے ووٹ کی رازداری سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا۔
چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ سب کے سامنے بیلٹ پیپر پر مہر لگانا اور اس کی ویڈیو بنانا دونوں قانوناً جرم ہیں اور اس عمل سے ووٹ کی سیکریسی مجروح ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب کے دوران اس طرح کے عمل سے انتخابی نظام پر سوالات اٹھتے ہیں۔
سماعت کے دوران عابد شیر علی نے بولنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عمرے پر جانا ہے، تاہم چیف الیکشن کمشنر نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور واضح کیا کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 6 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ واضح رہے کہ پی پی 116 فیصل آباد کے ضمنی انتخابات کے دوران عابد شیر علی کی جانب سے ووٹ ڈالتے وقت ویڈیو بنانے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا۔
