انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا، جبکہ اسی کیس میں پارٹی کی دیگر مرکزی شخصیات کو سزائیں سنا دی گئیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق 9 مئی کو کلب چوک، جی او آر کے گیٹ پر ہونے والے حملے سے متعلق درج مقدمے میں عدالت نے شواہد اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شاہ محمود قریشی کے خلاف الزامات ثابت نہ ہونے پر انہیں بری کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے کے وقت عدالت نے استغاثہ اور صفائی کے دلائل کو بھی مدنظر رکھا۔
اسی مقدمے میں انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی۔ عدالت کے مطابق ان ملزمان کے خلاف مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد الزامات ثابت کرنے کے لیے کافی تھے۔
عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات دیگر زیرِ سماعت مقدمات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ دوسری جانب سزا پانے والے رہنماؤں کی جانب سے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد ملک بھر میں مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے تھے، جن کی سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالتوں میں جاری ہے اور متعدد کیسز کے فیصلوں کا ابھی انتظار کیا جا رہا ہے۔
