English Al Qamar Urdu جون 27, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اسکالرشریعت کا وہ پرچارکر رہے ہیں جو مغرب کوقبول ہے: مولانافضل الرحمان

القمر

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عوام کے ذہنوں میں دینی مدارس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ اسکالر شریعت کی ایسی تشریح کو فروغ دے رہے ہیں جو مغرب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

کراچی کے علاقے لیاری میں مولوی عثمان پارک میں منعقدہ تحفظِ دینی مدارس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ دینی مدارس نوجوانوں کی صلاحیتوں کو محدود کر دیتے ہیں، جبکہ لوگوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ مدارس کا قیام کن حالات میں عمل میں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دانستہ طور پر عوام کے ذہنوں میں دینی مدارس کے حوالے سے تحفظات ڈالے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ ایک ہی نصاب اور یکساں تعلیمی نظام کی بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق جب علما نے مشترکہ نصاب کی تشکیل کی تجویز دی تو بیوروکریسی نے اس سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اصل خطرہ انہیں اپنی حکومت، بیوروکریسی اور صنعت کاروں کی جانب سے لاحق ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ 2010 میں دینی مدارس نے حکومت کی شرائط قبول کیں اور 26ویں ترمیم کے ساتھ ایک قانون منظور کیا گیا، تاہم اس قانون کا مسودہ انہوں نے خود تیار نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدم تشدد کا فلسفہ شیخ الہند نے پیش کیا اور سیاست میں ان کے پاس اپنی ایک معتبر روایت موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ دینی مدارس کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • مقصود بھٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے